( ملفوظ 18 ) شریعت کو عقلی مصالح پر مقدم رکھنا

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ کسی کا کوئی طرز ہو میرا تو یہ مسلک ہے کہ شریعت کو مصالح پر مقدم رکھتا ہوں میرے یہاں مصالح پیس دیئے جاتے ہیں کیونکہ مصالح کو جتنا پیسا جائے زیادہ لزیز اور مزیدار ہوتا ہے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق کو دیکھئے جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی طرح طرح کے فتنے کھڑے ہوئے ان میں ایک جماعت مانعین زکوۃ کی پیدا ہو گئی کہ باوجود دعویٰ اسلام کے زکوٰۃ سے انکار کرنے لگے ایسے وقت میں مانعین زکوٰۃ سے جہاد کا اعلان فرما دیا ایسے خطرناک وقت میں مسی مصالح پر نھی عمل نہ فرمایا کہ میں ضرور ان سے قتال کرنگا حتی کہ اگر کوئی بھی میرا ساتھ نہ دے گا تو تنہا ما نعین زکوٰۃ سے جہاد کرں گا جو چیز جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جاری تھی اس کو بند ہوتے دیکھ کر میں چین سے نہیں سے بیٹھ سکتا کہ کیا ٹھکانا ہے اس قوت قلبی کا اس واقعہ کی یہ مصلحت ظاہر ہوئی کہ تمام عرب پر ھیبت چھا گئی کہ کوئی بڑی قوت ضرور ان کی پشت پر ہے باجود اس کے کہ مدینہ لشکر اسلامی سے اس وقت خالی تھا کیونکہ کچھ لشکر مرتدین کے مقابلہ کے لئے بھیج کیا گیا کچھ شام کو روانہ کردیا گیا تھا یہ ہے ان حضرات کی قوت ایمانیہ اب یہ مصلحت رعب عام کی قبل وقوع کیسے معلوم ہوتی غرض دین کے مقابلہ میں مصلحتیں کوئی چیز نہیں حقیقت مین وہ دین کی مصلحت نہیں بلکہ اپنی مصلحتیں ہیں سو یہ مصلحت پرستی ہوئی خدا پرستی نہ ہوئی چھوڑو ان مصلحتوں کو ان میں کیا رکھا ہے خصوص اہل علم کو تو ہر گز اس طرف نظر نہ کرنا چاہیئے ان کا مذہب تو یہ ہونا چاہیئے ـ
مصلحت دید من آنست کہ یاران ہمہ کار بگزار ندوخم طرہ یارے گیرند

( میری تو یہ رائے ہے ـ کہ سب لوگ سارے ( غیر ضروری ) کام چھوڑ کر ایک محبوب سے تعلق پیدا کرلیں ( یعنی وعتصموا بحبل للہ جمیعا )
اور دنیوی تو کیا چیز ہیں ان کا تبتع اور اتباع تو بالکل ہوا پرستی ہے بزرگوں نے تو دینی حکم و اسرار میں خوض کرنے اور ان کو تفحص کرنے سے منع فرمایا ہے چناچہ مجدد صاحب فرماتے ہیں کہ شرائع میں اسرار اور مصالح کا تلاش کرنا مرادف ہےانکار نبوت کا یہ نبی کا اتباع نہیں مصالح کا اتباع ہے ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ فلاں مسئلہ اس طرح کیوں ہے میں نے جواب دیا کہ تم تو ہم سے خدائی احکام کی حکمتیں پوچھتے ہو جہاں رسائی بھی مشکل ہے ھم تم سے تمہاری ہی ترکیب بدنی کے متعلق پوچھتے ہیں آسان ہے کہ یہ ناک سامنے ہی کیوں ہے ـ اسی طرح ایک دوسرے شخص نے لکھا فلاں مسئلہ میں کیا حکمت ہے میں نے لکھا کہ اس سوال میں الحکمت ہے کہ خود تہاری کیا حکمت اسی طرح ایک شخص نے لکھا کہ کافر سے سود لینا کیوں حرام ہے میں نے لکھا کہ کافر عورت سے زنا کرنا کیوں حرام ہے اس پر انہوں نے غیر جوابی خط لکھا اور لکھا کہ علماء کو اس قدر خشک نہ ہونا چاہیئے اگر جوابی خط ہوتا تو میں جواب لکھتا کہ جاہلوں کو اس قدر تر نہ ہونا چاہیئے کہ جس سے بالکل دوب ہی جائیں متکبروں کے ساتھ یو ہی پیش آنا چاہیئے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم خر دماغ ہیں میں یہ چاہتا ہوں کی ان کع یہ معلوم کرا دیا جائے کہ علماء بھی اسپ ناغ ہیں جزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا ـ
13 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چہار شنبہ