( ملفوظ 17 ) کافروں کا ذکر و شغل تجویز کرنا غلط ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعضے بزرگ بعض موہوم مصلحتوں سے ہندو کی بھی ذکر شغل کی تعلیم کر دیتے ہیں کہ اس سے اسلام سے قرب ہو جائیگا مگر یہ خیال محض غلط ہے بلکہ اس میں اور بعد ہو جائے گا اس لئے کہ کیفیات کے لئے اسلام شرط نہیں وہ غیر مسلم کو بھی حاصل ہو جاتی ہیں اگر ایسا ہو گیا تو اس کو دھوکا ہو جائیگا کہ وہ کیفیات کو قرب سمجھ کر قرب کے لئے اسلام کو شرط نہ سمجھے گا اچھا خاصہ الحاد راسخ ہو جائے گا جلال آباد میں ایک ہندو رئیس میرے وعظ میں شریک ہوا بعد وعظ تصوف کی تعلیم حاصل کرنا چاہی میں نے صاف کہ دیا کہ اس کے لئے پہلی شرط اسلام ہے پھر وہ اس طرف رجوع نہیں ہوا مگر آج کل ایسے پیر پیدا ہو ہوگئے ہیں کہ مسلمان ہو کر بھی وہ طریق کے لئے اسلام کو شرط نہیں سمجھتے انا للہ وانا الیہ راجعون ایسا طریق شیطانی طریق ہے جس میں اسلام شرط نہیں اس پر بڑا فخر ہے کہ فلاں ہندو ہمارا مرید ہے اگر یہی بات ہے کہ مقبولیت کے لئے اسلام شرط نہیں تو خود پیر صاحب ہی کیوں داخل اسلام ہونے کو ضروری سمجھتے ہیں کیا عجیب فلسفہ ہے حقیقت میں نرا سفہ ہے یقینا بدون اسلام قبول کئے ہر گز واصل الی المقصود نہیں ہو سکتا اور اصل غلطی یہی ہے کہ مقصود ہی کے سمجھنے میں گڑ بڑ ہو رہی ہے بہت لوگوں نے محض کیفیات و کشف و کرامات ہی مقصود بنا رکھا ہے یہی سرے سے اعمال ہیں اور مقصود رضائے حق ہے اب بتلایئے کہ اس کے لئے اسلام شرط ہے یا نہیں یہ ہے طریق کی حقیقت جو اس وقت بیان کی اس کے علاوہ سب شیطانی راہ ہے جس میں مخلوق کو پھنسا کر گمراہ کیا جاتا رہا ہے ـ اور یہ طریق تو دقیق چیز ہے جس قدر غیر مسلم اقوام ہیں خواہ ہندو ہو یا عسائی ان کو ظاہری علوم سے بھی اصلا مناسبت نہیں میرا مشاہدہ ہے کہ تجربہ مختلف لوگوں سے گفتگو ہوئی سفر میں حضر میں کافی رسمی علوم سے بھی کورے ہیں قطعا مناسبت نہیں یہ تو مسلمانوں ہی کا حصہ ہے بات یہ ہے کہ علم بدون نور فہم کے حاصل نہیں ہو سکتا اور نور فہم بدون اسلام اور تقوی کے حاصل ہونا محال ہےـ ایک ہندو بہت بڑا سرکاری افسر ہے اس نے ایک مسلمان کے ہاتھ میرے پاس کہلا کر بھیجا کہ میں اپنے مذہب کے طریق پر کچھ پوجا پاٹ کر چکا مگر کسی طرح اطمینان میسر نہیں ہاتا مجھ کو حق کی تلاش ہے میں نے کہلا بھیجا ہے کہ کثرت سے اہدناالصراط المستقیم پڑھا اور دعا کیا کرو انشاءاللہ تعالی حق واضح ہو جائے گا اور ایک یہ گات کہلا کر بھیجونگا کہ جیسے تم نے اپنے مذہب کے طریق پر پوجا پاٹ کر کے دیکھا اور اطمینان میسر نہیں ہوا اسی طرح اسلامی تعلیم کے طریق پر عبادت کر کے دیکھو خواہ امتحان ہی کے طور پر سہی اگر اطمنان نہ ہو تو پھر ہم سے کہنا مولاما رومی اسی کو فرماتے ہیں ـ
سالہا تو سنگ بودی و لخراش آزمون را یک زمانے خاک پاش

برسوں تک تو سخت پتھر رہا ہے امتحان کے لیے چند روز کے لیے خاک بن کر دیکھ لے ـ 12 )

گو اس صورت میں محض صورت ہی صور ہوگی مگر اس مین بھی برکت ہوگی انشاءاللہ تعالی صاحب صورت تو پھر معنی سے قریب ہے خود نام میں بھی برکت ہے دیکھیئے کھٹائی میں تو یہ اثر ہو کہ نام لینے سے منہ میں پانی بھر آئے اور اللہ کے نام میں اثر نہہو یہ کیسے ہو سکتا ہے مولاما فرماتے ہیں ـ
از صفت وز نام چہ زاید خیال واں خیالت ہست دلال و صال

(کسی چیز کے اوصاف بیان کرنے اور اس کا نام لینے سے کیا پیدا ہوتا ہے یہی کہ اسچیز کا خیال پیدا ہو جائے مگر یہ خیال ہی اکثر موجب وصال ہو جاتا ہے 12 )
غرض کبھی صورت پر بھی اس قدر فضل ہو جاتا ہے کہ کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے اور وہ تو حقیقی کریم ہیں مجازی کریموں کو دیکھ لیجئے اگر ان کے پاس کنجڑا اصلی خربوزہ لیجاتا تو چار آنے ملتے لیکن اگر مٹی کا بنا کر لیجائے دو روپے مل جاتے ہین خلاصہ یہ ہے کہ چاہیئے صورت ہی ہو مگر نیت عجز و نیاز ہو اسپر بھی فضل ہوتا ہے ـ دعویٰ و ناز نہو بلکہ بزرگوں نے تو یہانتک فرمایا ہے کہ متشبی بالصوفی کی بھی قدر کرو کیونکہ اس نے طریق کو معظم تو سمجھا تب ہی تو تشبہ اختیار کیا اور یہ ہی راز ہے تشبہ بالکفار کے مذموم ہونے کا کہ وہ علامت ہے کفر اور کفار کی عظمت کی اس لئے حدیث جناب پیغبر صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں من تشبہ بقوم فہو منھم کیونکہ بغر اعتقاد عظمت کے تشبہ نہیں ہو سکتا اور کفار کی عظمت کا اعتقاد ہے حرام ـ اسی طرح حضرات صوفیہ کا یہ فرمانا کہ متشبہ بالصوفی کی بھی قدر کرو اس کی بناء یہ ہی ہے کہ اس متشبہ کے قلب میں اس جاعت کی عظمت ہے اس لئے اس لیے اس کی بھی قدر کیا کرو کیا ٹھکانہ ہے ان حضرات کی عمیق نظر کا اسی لئے میں کہتا ہوں کہ مقبول بندوں کی وضع اختیار کرو شکل بناؤ دوسری ایک اور بات اسی وقت ذہن میں آئی کیا جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جی نہیں جائے گا کہ میری امت میرے طرز پر رہے اہل محبت کے لئے تو یہی کافی ہے خواہ کچھ بھی فائدہ نہ ہوتا لیکن اگر یہ درجہ حاصل نہ ہوا اور فائدہ ہی مطلوب ہو تو ہی نیت سے اختیار کرلو تب معلوم ہو کہ کیا برکت ہوتی ہے قبل عمل محض عقل سے حقیقت کا ذہن میں آنا مشکل ہے اور یہ واقعہ ہے کہ شرائع کی مصلحتیں عمل اختیار کرنے کے بعد ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے طبیب کامل کے نسخہ کی خاصیتیں بعد ( استعمال ہی کے معلوم ہوتی ہیں ـ