ملفوظ 208: مسلمانوں کو اپنی دولت کی خبر نہیں

 مسلمانوں کو اپنی دولت کی خبر نہیں فرمایا ! کہ میرے جو قواعد اور ضوابط ہیں ان کو اپنی اور دوسروں کی راحت رسانی کے واسطے میں نے وضع کئے ہیں اور ایسے اصول اور ضوابط سب اسلام کے ہیں لوگ کہتے ہیں کہ انگریزوں سے سیکھے ہیں بالکل غلط ہے بلکہ خود انگریزوں نے اسلام سے سیکھے ہیں ہمیں خبر نہیں کہ ہمارے گھر میں کیا دولت ہے اس جہل کی کوئی انتہا ہے اتنی خبر نہیں اپنی دولت کو دوسروں کی سمجھتے ہیں اور یہی کیا جس قدر غیر مسلم اقوام ہیں سب وحشی تھیں تواریخ اٹھا کر دیکھو پتہ چل جائیگا ـ یہ سب اسلام کی خوبیاں ہیں جو دوسری قوموں نے اختیار کر لی ہیں ـ اور ایسے اصول صحیحہ سے ہر شخص منتفع ہو سکتا ہے راحت اٹھا سکتا ہے اس میں مسلم اور غیر مسلم کی قید نہیں ـ میں حیدر آباد دکن گیا تھا ـ تقریبا چودہ روز قیام رہا تھا وہاں پر ایک معزز دوست نے ٹکسال کی سیر کرائی تھی وہاں پر ایک انگریز دکھلانے والا تھا جب وہ تمام مقامات دکھا چکا اور میں رخصت ہونے لگا میں نے اس انگریز سے کہا کہ آپ کے اخلاق سے بہت جی خوش ہوا آپ کے اخلاق تو مسلمانوں جیسے ہیں میرے اس کہنے کا اس انگریز پر بہت زیادہ اثر ہوا اور بہت خوش ہوا کہ ایک مذہبی شخص نے میری تعریف کی ـ میں نے انہیں یہ ظاہر کر دیا کہ یہ تمہارے گھر کی چیز نہیں کبھی اس پر ناز کرو یہ مسلمانوں کے گھر کی چیز ہے جو تم نے اختیار کر لی ہے ـ وہ دوست صاحب جو میرے ہمراہ تھے اور بڑے عہدے پر ممتاز ہیں وہ باہر آ کر مجھ سے کہنے لگے کہ آپ نے عجیب بات فرمائی بہت ہی جی خوش ہوا بالکل نئے طرز سے تعریف کی کہ اس کی تعریف بھی ہو گئی اور مسلمانوں کو ترجیح بھی ہو گئی ـ میں نے کہا کہ میں نے واقعہ بیان کیا حقیقت یہی ہے حضرت اگر ہمیں اپنے گھر کی خبر ہو تب معلوم ہو کہ کیا کیا دولت گھر میں دفن ہے اور کتنا بڑا خزانہ ہے مگر پھر بھی یہ حالت ہے مسلمانوں کی ؎ یک سید پر ناں ترابر فرق سر ٭ تو ہمی لب ناں دربدر تابزانوئی میں قعر آب ٭ وزعطش وز جوع کشتستی خراب یعنی سر پر روٹیوں کا ٹوکرا ہے گھٹنوں تک پانی ہے نہایت پاکیزہ اور لطیف اور دوسروں سے بھیک مانگتے پھرتے ہیں کہ روٹی دیدو پانی دیدو اپنے گھر کی خبر نہیں اس میں سب کچھ ہے ان کے پاس کیا چیز نہیں مگر در بدر پھرتے ہیں کہ جرمن سے یہ لے لو اور جاپان سے یہ اور امریکہ سے وہ لے لو ـ ارے کیا رکھا ہے ان کے پاس انہوں نے تو خود تمہارے ہی گھر سے لیا ہے اور ہم تو الحمداللہ اب بھی مال دار ہیں مگر خبر نہیں ہم کو کہ وہ دولت حق تعالی نے عطا فرمائی ہے جو دوسروں کو نصیب نہیں اور یہ تو ظاہری دولت ہے باقی جو اصل دولت ہے اس میں تو مسلمانوں کا کوئی بھی شریک نہیں وہ ایمان ہے اور ایمانی اخلاق ـ