( ملفوظ 475)ہر ایک کی استعداد کے موافق معاملہ کرنا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ بہت ہی بڑا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو مریدی کی ترغیب دے کر بھیجا جاوے ، بڑی غیرت کی بات ہے ، مجھ کو اگر شبہ بھی ہو جاتا ہے کہ یہ کسی کا ترغیب دیا ہوا آیا ہے اس کو جمنے نہیں دیتا ، اب تو یہ آفت ہو گئی ہے کہ یہ باتیں مشائخ کو ناگوار نہیں ہوتیں ، اچھی خاصی ایجنسی ہو رہی ہے معتقد لوگ دوسروں کو پھانس کر لاتے ہیں اور وہ دھڑا دھڑ مرید کرتے ہیں کیا خرافات ہے طالب کو مطلوب ، مطلوب کو طالب بنا رکھا ہے اور اصل یہ ہے کہ اپنی اپنی رائے ہے ہم کیوں کسی کے مقلد بنیں ہم تو جو اپنے جی میں آئے گا وہ کریں گے پھر مریدی میں کیا رکھا ہے اگر کوئی چیز اہتمام کی ہے وہ شریعت مقدسہ ہے اور ایسی مریدی سے طالبوں کا کوئی بھی تو نفع نہیں کہ جو آیا مرید کر لیا اس میں تو مرید متبوع ہو گیا حالانکہ اس کو کام کرنے والا ہی جانتا ہے کہ کس کے لیے کس وقت کیا ضرورت ہے جیسے روٹی پکانے والی سمجھتی ہے کہ اب تیز آنچ کی ضرورت ہے یا نرم آنچ کی ضرورت ہے تو دوسرا اس میں کیوں دخل دے اور کیوں رائے دے ، میرے متعلق یوں سمجھتے ہیں کہ یہ مرید کرنے سے یا مرید کو بنانے سے پہلو تہی کرتا ہے کسی کو کیا خبر میں نے دس دس برس بیس بیس برس نباہا ے ان کو کوئی ایک ہی مہینہ نباہ کر کے دکھا دے مگر جس میں گنجائش ہی نہ ہو اول ہی سے ان کو جواب مل جاتا ہے پھر وہ بعد میں ایسے ہی ثابت ہوتے ہیں اور میں دعوی سے تو نہیں کہتا مگر واقعہ ہے اور اس کے خلاف کا وقوع شاذ و نادر ہی ہوتا ہے وہ یہ کہ یہاں پر جو کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے اس کی ایک تمثیل یاد آ گئی گو ظاہرا ایسا کہنا تو نہیں چاہیے مگر تفہیم کی ضرورت سے کہتا ہوں وہ یہ کہ حق تعالی کا جو قانون ہے کافروں کے متعلق کہ ان کو جہنم میں ابدالآباد تک رکھیں گے اس پر ایک سطحی شبہ ہوتا ہے کہ ہزار دو ہزار برس سزا دے کر چھوڑ دیں ، اس سزا سے تو ان کی تمام شرارت فنا ہو جائے گی ، میں کہتا ہوں کہ اگر ان کو سزا دے کر چھوڑ دیا جائے اور ان کو امتحان کا موقع دیا جائے تو واللہ ثم واللہ وہ پھر ویسے ہی ثابت ہوں گے جیسے پہلے تھے اسی کو فرمایا :
ولو تری اذ وقفوا علی النار فقالوا یا لیتنا نرد ولا نکذب بآیات ربنا و نکون من المؤمنین بل بدالھم ما کانوا یخفون من قبل ولو ردوا لعادوا لما نھوا عنہ و انھم لکاذبون
( اور اگر آپ اس دیکھیں جبکہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کیے جائیں گے تو کہیں گے ہوئے کیا اچھی بات ہو کہ ہم پھر واپس بھیج دیئے جائیں اور اگر ایسا ہو جائے تو ہم رب کی آیات کو جھوٹا نہ بتا دیں اور ہم ایمان والوں سے ہو جائیں بلکہ جس چیز کو اس سے قبل دیا کرتے تھے وہ ان کے سامنے آ گئی ہے اور البتہ لوگ پھر اس میں بھی بھیج دیئے جائیں تب بھی یہ وہی کام کریں گے جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور یقینا یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں ۔ 12 )
اسی طرح فاسد الاستعداد یا فاقد المناسبت لوگوں کی اگر رعایت کی جائے وہ بعد میں ایسے ہی رہیں گے مگر معاملہ تو اپنے ہی علم کے موافق کیا جائے گا ۔