( ملفوظ 476) تبحر فی العلوم فرض عین بن گیا

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تبحر فی العلوم اصل میں فرض کفایہ ہے مگر اب ایسے حالات ہو گئے ہیں کہ تقریبا فرض عین ہے اس لیے کہ دین کی حفاظت فرض ہے اور وہ بدون علم کے ہو نہیں سکتی اور اتباع کا مادہ اب لوگوں میں نہیں رہا ہے اس لیے خود علم کافی حاصل کرنے کی ہر شخص کو ضرورت ہوئی اس لیے چند روز سے یہ خیال ہوا ہے کہ ایسا تبحر فی العلوم اس زمانہ میں عجب نہیں کہ فرض عین ہو اور باوجود تبحر کے بھی ایک دوسری چیز بھی گویا فرض عین ہے یعنی صحبت اہل اللہ کی اس لیے کہ لکھے پڑھے لوگ بھی گڈمڈ ہو جاتے ہیں اس لیے میں ان دونوں چیزوں کو یعنی تبحر فی العلوم اور صحبت اہل اللہ کو ایک درجہ میں فرض عین کہتا ہوں اس لیے کہ دین کی حفاظت ان ہی دو چیزوں پر موقوف ہے خصوص دوسری چیز پر ۔