ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس طریق کی حقیقت سے بے خبری کی یہ حالت ہے کہ ایک بڑے عالم تھے اور درویش بھی سمجھے جاتے تھے ، میں بھی ان سے ملا ہوں ، شروع میں تو ہمارے بزرگوں کے معتقد تھے ، آخر میں آ کر کسی قدر بدعت کا رنگ غالب ہو گیا تھا مگر تھے سادہ اور نیک ، انہوں نے ایک ذاکر سے پوچھا کہ کچھ ذکر و شغل کرتے ہو اس نے کہا کہ جی ہاں دریافت کیا کہ کچھ نظر بھی آتا ہے انہوں نے کہا کہ نظر تو کچھ نہیں آتا کہنے لگے کہ خیر ثواب لیے جاؤ باقی نفع مقصود تو کچھ ہے نہیں مجھ کو تو یہ سن کر حیرت ہو گئی کہ عالم درویش ہو کر ایسی بات کہی اصل چیز تو ثواب ہی ہے جو تمام اعمال سے مقصود ہے اور ثواب کی حقیقت ہے ۔ حق تعالی سے قرب اور اس کی رضاء انہوں نے اس کی کیسے تحقیر کی اصل میں یہ فن بھی بڑا ہی نازک ہے اس میں بہت سنبھل کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے ورنہ آدمی ٹھوکریں ہی کھاتا رہتا ہے ۔
