( ملفوظ 495)حضرت حاجی صاحب اور صوفیاء کی عظمت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو تقریر کے وقت جوش ہوتا تھا ، آواز بلند ہو جاتی تھی اور تقریر سے فراغت کے بعد بے حد ضعف ہو جاتا تھا مگر تقریر کے وقت یہ حالت ہوتی تھی :
ہر چند و خستہ و بس ناتواں شدم ہر گہ نظر بروئے تو کردم جواں شدم
اور کیوں نہ ہو فرماتے ہیں :
خود قوی ترمی شود خمرکہن خاصہ آں خمرے کہ باشد من لدن
( وہ جوش اور قوت اور ہی کسی چیز کی بدولت ہے یہ وہ دولت ہے کہ بادشاہوں کو بھی نصیب نہیں ) ۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ اگر بادشاہوں کو اس دولت کی خبر ہو جائے تو ” لجادلونا بالسیوف ”
یعنی تلوار لے کر ہم پر چڑھ آئیں کہ لاؤ ہم کو بھی دو کیا لیے بیٹھے ہو مگر خبر نہ ہونا مضر نہیں البتہ انکار نہ کرنا یہ سخت خطرناک چیز ہے ۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ اس طریق کا انکار نہ کرے چاہے معتقد بھی نہ ہو بلکہ یہ طریق اس قدر باوقعت اور باعظمت ہے کہ بعض بزرگوں نے فرمایا کہ اگر کوئی اس طریق کو مکرر و ریاء کی وجہ سے بھی اختیار کرے اس کی بھی قدر کرے اس لیے کہ اس کے دل میں اس طریق کی عظمت ہے تب ہی تو اس کو لیا گو مکر ہی سے سہی سو اس کو بھی حقیر مت سمجھو کیونکہ جس چیز کی قلب میں وقعت و عظمت نہیں ہوتی آدمی اس کو کسی طرح بھی اختیار نہیں کرتا ۔ دیکھئے ان حضرات میں حقائق کی کس قدر دقیق رعایت ہے
حکماء بھی ان حضرات کے سامنے جاہل ہیں اور جیسے اختیار کرنا دلیل عظمت کی ہے اسی طرح احکام کے مصالح اور حکمتوں کا تلاش کرنا اس کی دلیل ہے کہ اس کے دل میں احکام کی وقعت اور عظمت نہیں اگر کوئی شخص کسی کے نوکر سے اس کے آقا کے کاموں کے مصالح پوچھے تو وہ کہے گا کہ مجھ کو مصالح سے کیا غرض میں تو نوکر ہوں یا غلام ہوں حکم کی تعمیل کرنا میرا فرض منصبی ہے پھر مجھ کو معلوم بھی کہاں کہ کیا مصالح ہیں کیا مجھ سے آقا مشورہ لے کر کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے مجھ کو مصالح معلوم ہوں اور علاوہ اس کے مصالح کے بیان کرنے میں جیسا اس وقت اہل تقریر کی عادت ہو گئی ہے ایک بڑی خرابی بھی ہے مثلا نماز کے مصالح بیان کیے جاتے ہیں کہ اس سے اتحاد بین الجماعت مقصود ہے سو اس میں خرابی یہ ہے کہ اگر یہ مصالح کسی وقت دوسری صورت سے حاصل ہونے لگیں گے تو وہ اصل نماز کو خیرباد کہہ کر الگ ہو جائے گا ۔ مثلا قلب میں جمع ہونے سے یہ مصالح حاصل ہو جائیں تو وہ قلب گھر کو اللہ کے گھر پر ترجیع دے گا ۔