ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے یہاں لوگوں میں جاہ کا مرض عالمگیر ہو گیا ہے ۔ عرب میں اس وقت تک بے تکلفی اور سادگی ہے اور جاہ کا مرض اس تک ان لوگوں میں کم پایا جاتا ہے ۔ ایک بدوی آ کر شریف مکہ کو بے تکلف پکارتا ہے یا حسین یا حسین اگر جاہ کا مرض ہوتا تو لوگ صرف سیدنا سیدنا کہہ کر پکارتے مگر دونوں طرح کی عادت ہے ۔
