( ملفوظ 6 ) بلا ضرورت وقت صرف نہ کرنا چاہیے

مدرسہ دیوبند کے واقعات اختلافات کا اور معترضین کے اس اعتراض کا کہ یہ کیسے مولوی ہیں کہ آپس میں لڑتے ہیں ۔ ذکر فرماتے ہوئے فرمایا کہ اس پر میں نے ایک رسالہ لکھا ہے اس میں یہ ثابت کیا ہے کہ ہر نا اتفاقی مذموم نہیں ۔ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اس وقت اس پر کچھ تقریر فرماویں ، فرمایا کہ رسالہ ہوتے ہوئے تقریر کی کیا ضرورت ہے ، رسالہ دیکھ لیا جائے جس قدر اس میں وضاحت سے مضمون ملے گا میں اس وقت اس کا احاطہ بھی نہیں کر سکتا اور اس میں ایک اور حکمت بھی ہے وہ یہ کہ اس میں بلا ضرورت کیوں وقت صرف کیا جائے یہ بھی ایک کام کی بات ہے جو میں اس وقت بیان کر رہا ہوں یعنی لایعنی بات میں مشغول نہ ہونا چاہیے ۔ گو اس وقت اس مضمون میں یعنی بیان سے عذر کر دینے میں ایک گونہ تلخی معلوم ہو گی مگر مرض کا ازالہ ہمیشہ کے لیے ہو جائے گا بس اہل فہم کے لیے اشارہ کافی ہے ( یہ اس لیے فرمایا کہ مولوی صاحب میں بے ضرورت کاوش کا مرض تھا ) امید ہے کہ آپ سمجھ گئے ہوں گے ان مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اس وقت بہت بڑا نفع ہوا ، حق تعالی حضرت کو جزاء خیر عطا فرمائیں ۔ اس اپنے مرض کی طرف مجھ کو التفات بھی نہ تھا ، فرمایا کہ میرا بھی جی اس وقت خوش ہوا کہ آپ نے قدر کی اور سمجھ گئے ۔