( ملفوظ 7 ) علماء کو لڑانا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل علماء کو اپنی جنگ کی آڑ بناتے ہیں اور خود الگ رہتے ہیں ۔ میں ان کی رگوں سے خوب واقف ہوں ، جوابوں میں اس کی رعایت رکھتا ہوں اس لیے یہاں کے جوابوں سے خوش نہیں ہوتے ۔ ایک خط میں بطور شکایت لکھا آیا تھا کہ یہاں کی انجمن میں اتنےعرصہ سے مد زکوۃ کا روپیہ جمع ہے اگر لوگ ان سے صرف کرنے کو کہتے ہیں یا حساب مانگتے ہیں کوئی جواب نہیں دیتے ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہے ، میں سمجھ گیا کہ فتوی حاصل کر کے لوگوں کو دکھاتے پھریں گے اور فساد برپا کریں گے ، میں نے جواب میں لکھا کہ ان انجمن والوں سے اس کا جواب لے کر کہ ایسا کیوں کرتے ہیں سوال میں درج کرو اور پھر فتوی حاصل کرو ، اس جواب سے بھلا کیا خوش ہوں گے ۔ ایک اور خط میں لکھا آیا تھا کہ یہ معلوم ہوا ہے کہ بھوک کے وقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے شکم مبارک پر پتھر باندھا ہے کتب سیر کے بھی حوالے دیے ہیں ۔ پوچھا تھا کہ کیا یہ صحیح ہے ، میں نے لکھا کہ اگر صحیح ہوا تو تم کیا کرو گے ، مطلب یہ کہ غیر ضروری تحقیق سے کیا فائدہ ۔ ایک اور خط آیا تھا جو غیر ضروری مضمون اور تکلف سے بھرا ہوا تھا ، دیکھ کر بڑی قلب میں کدورت ہوئی ، سب مضمون تو محفوظ نہیں رہا کچھ محفوظ ہے ۔ لکھا تھا کہ احقر کو سخت تعجب ہے کہ آپ حضرات سے کوئی تعلق نہ رکھ کر کس طرح زندگی بسر کر سکتا ہے ۔ اسی طرح کا اور بھی مضمون تھا ، میں نے جواب میں صرف یہ لکھا کہ اس تمہید سے کیا فائدہ ہوا ، یہ کاتب فلاں شاہ صاحب کے سفارشی ہیں ورنہ میں ایسوں کی خوب خبر لیتا ہوں تاکہ دیکھوں کہ کہاں تک اعتقاد ہے ۔اسی سلسہ میں فرمایا کہ ان ہی شاہ صاحب نے ایک اور صاحب کو یہاں پر بھیجا ان سے یہاں پر بعض حماقتوں کا صدور ہوا جس سے مجھ کو اذیت پہنچی ، اتفاق سے وہ شاہ صاحب بھی بغرض ملاقات یہاں تشریف لائے تو واقعات معلوم کر کے کہنے لگے اس نے یہاں آ کر بڑی حماقت کی جی میں تو آیا کہہ دوں کہ اول حماقت آپ نے کی کہ اس کو خواہ مخواہ یہاں بھیجا ۔ اس نے جا کر ان ہی شاہ صاحب سے میری نسبت کہا کہ تم نے مجھے کہاں بھیج دیا وہ تو مجذوب ہیں ۔ حضرت والا نے تبسم فرما کر فرمایا کہ غنیمت ہے مجذوب ہی کہا مجنون نہیں کہا ۔