ملفوظ 44: آج کل درویشی دو پیسہ کی

فرمایا ! کہ آجکل بزرگ اس کو سمجھتے ہیں کہ اس کے کپڑے گیروی ہوں لٹیں ناف تک ہوں ـ چوغہ گٹوں تک ہو ـ بڑے بڑے دانوں کی تسبیح ہاتھ میں ہو بس درویش ـ شاہ صاحب ہیں ولی کامل ہیں کیا خرافات ہے ـ غالبا ہمارے حضرت حاجی صاحب ؒ فرمایا کرتے تھے کہ آجکل درویشی دو پیسہ میں ملتی ہے ایک پیسہ کا گیرو خرید لیا کپڑے رنگ لئے ایک پیسہ کی تسبیح
خرید لی اور درویش ہو گئے ـ ہمارے بزرگوں کے طریق کو تو ظاہر بیں مولویت سمجھتے ہیں کہتے ہیں
اسے درویشی سے کیا تعلق ایسے لوگوں میں تو جس قدر خلاف شریعت ہو وہ زیادہ کامل سمجھا جاتا
ہے اسی کو مولانا فرماتے ہیں ؎
کار شیطان میککنی نا مت ولی ٭ گر ولی این ست لعنت بر ولی
( شیطانی کام کرتے ہو اور تمہارا نام ولی ہے اگر ولی یہی ہے تو ولی پر لعنت )