فرمایا ! کہ اس طریق میں د شواری اسی وقت تک ہے جب تک اس کی حقیقت سے بے خبری ہے حقیقت معلوم ہو جانے کے بعد پھر اس سے زیادہ سہل اور آسان کوئی چیز نظر نہیں آتی
لوگوں نے فن نہ معلوم ہونے کی وجہ سے اس کو ہوا بنا رکھا ہے اور ایسی بری طرح تصوف کو پیش
کیا ہے کہ بجائے رغبت کے لوگوں کو وحشت ہو گئی حالانکہ تصوف صرف ایک مسئلہ پر ختم ہے ـ عمل
ایک اختیاری ہے ایک غیر اختیاری ـ اختیاری کو لے کر غیر اختیاری کے در پے نہ ہو ـ
بس یہ ایک چھوٹی اور مختصر سی بات ہے ـ ایک لطیفہ یاد آیا چھوٹے اور مختصر ہونے پر ـ
ایک پیر صاحب تھے ان کا مقولہ ایک صاحب نے مجھ سے بیان کیا انہوں نے میرا نام لے کر کہا
کہ فی الحقیقت تصوف کو جس قدر سہل کر کے اس نے دکھلایا ہے آج تک اس کی نظیر نہیں مگر بات
یہ ہے کہ تعبیر کرنا بھی سہل حقیقت سمجھنا بھی سہل مگر عمل مشکل ہے ـ میں جواب میں کہا کرتا ہوں کہ
تم جو یہ عذر حق تعالی کے احکام میں کرتے ہو یہی عذر تمہارا نوکر یا غلام تمہارے کاموں میں کرے
تب بتاؤ کہ کیا اس کو معذور سمجھو گے ـ اگر یہی مواخذہ حق تعالی نے فرمایا اور باز پرس کی تو جواب
کیلئے تیار رہنا چاہئے ـ
