آجکل کے اخلاق کے معنی کیا ہیں ؟ ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آجکل تو اخلاق کے معنی عرف میں یہ ہو گئے ہیں کہ بات نرم ہو چاہے معاملات کیسے ہی سخت اور مضر ہوں نرم بولنے کو اخلاق سمجھتے ہیں جو اس متعارف اخلاق کے عامل ہیں نیک نام مشہور ہیں میرے اندر یہ متعارف اخلاق اور رسمی باتیں ہیں نہیں مجھ کو بد نام کر رکھا ہے کہ سخت مزاج ہے اب میں علٰی سبیل التنزل کہتا ہوں کہ اچھا میں سخت مزاج ہی سہی کیوں آتے ہو میرے پاس ـ میں بلانے تھوڑا ہی جاتا ہوں خوب کہا ؎ ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
