ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ عورت چار ماہ سے زیادہ شوہر کے بدون صبر نہیں کر سکتی مگر صحیح المزاج ہونا شرط ہے ورنہ ضعف اعضاء کی وجہ سے زیادہ بھی صبر کر سکتی ہے ۔ یہ تجربہ کاروں کا قول نقل کرتا ہوں پھر اس کی تائید میں حضرت عمر کا قصہ بیان فرمایا کہ آپ شب کو گشت فرما رہے تھے ایک مکان میں سے کچھ اشعار پڑھنے کی آواز آئی ، نہایت دلکش وہ شوہر کو یاد کر رہی تھی ، آپ حضرت حفصہ کے پاس تشریف لے گئے کہ اے بیٹی میں ایک بات بضرورت دینی دریافت کرتا ہوں ، اس میں حجاب نہ کرنا بتلا دینا ، وہ یہ کہ عورت بدون مرد کے کتنا صبر کر سکتی ہے ، انہوں نے نہایت جبر کر کے جواب دیا کہ چار ماہ پھر اس کے بعد تکلیف ہوتی ہے ۔ یہاں پر ایک بات قابل غور ہے کہ حضرت عمر فاروق نے بیٹی سے دریافت کیا ، بیوی سے کیوں نہ پوچھا ، سو وجہ اس کہ ہے کہ ان کو یہ خیال ہوا کہ شاید اس میں اپنی غرض سمجھ کر نہ بتلائیں ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اس وقت تمام امراء اور سپاہی اور لشکروں کو حکم دیا کہ کوئی سپاہی یا افسر چار ماہ سے زائد باہر نہ روکا جائے ، گھر آنے کیلئے اس کو رخصت دے دی جایا کرے ۔
