( ملفوظ 463 ) کثرت ازدواج کے اعتراض کا جواب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کثرت ازواج کے باب میں معترضین نالائقوں نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے اوپر قیاس کیا ہے اس لیے شہوت پرستی کا ناپاک اعتراض کیا ، حضور صلی اللہ علیہ و سلم میں جتنی قوت تھی اس پر نظر کر کے تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے نفس کے تقاضے کا پورا پورا مقابلہ فرمایا کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم میں تیس مردوں کی قوت تھی اور بعض محققین نے کہا ہے کہ مرد بھی کون سے جنت کے مرد اور جنت کے ہر مرد میں سو مردوں کی قوت ہو گی ۔ خیر اگر یہ بھی نہ سہی تو یہیں کے مرد سہی تب بھی اس قوت کے ہوتے ہوئے تو پھر اکتفا کرنے میں کیا ٹھکانا ہے ۔ ضبط کا اس وقت کے قوی ایسے تھے کہ ایک صحابی کا واقعہ ہے کہ تمام شب بیوی سے مشغول رہتے ، اس قدر قوت ممسکہ تھی سو حضور صلی اللہ علیہ و سلم میں ایسے تیس مردوں کی قوت تھی تو اس اعتبار سے تو آپ نے نکاح میں بہت تقلیل فرمائی ۔ اسی طرح معترضین کا یہ بھی غلط الزام ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ساتھ آپ کو متعارف عشق کا درجہ تھا ۔ آپ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس نویں دن تشریف لاتے تھے اگر ایسے عشق کا درجہ ہوتا تو آٹھ دن کیسے صبر ہوتا پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم میں ضعف بھی نہ تھا بلکہ شیخوخت میں بھی شباب کی قوت تھی ، نہایت صحیح قوی تھے اور یہ شبہات جو پیدا ہوئے یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق کریمانہ سے پیدا ہوئے مگر یہ رعایت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی اپنے متعلقین کے ساتھ شان حاکمانہ تھی ، عاشقانہ نہ تھی نیز یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ گھر میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا جو وقت گزرتا تھا زیادہ تر یاد الہی اور اطاعت میں گزرتا تھا شب کو بھی ، دن کو بھی اگر ( نعوذ باللہ ) نفس پرستی ہوتی تو زیادہ وقت اس میں گزرتا مگر وہاں تو اصل چیز یہ عبادت ہی رچی ہوتی تھی قلب میں اس کے علاوہ اور چیزیں بقدر ضرورت تھی پھر ایسے شبہات محض کور چشمی ہے ۔