ملفوظ 245: اعمال حسنہ کے اندر ابتداء میں نیت کر لینا کافی ہے

اعمال حسنہ کے اندر ابتداء میں نیت کر لینا کافی ہے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ افعال اختیاریہ میں صرف ابتداء میں ارادہ کرنا پڑتا ہے ـ پھر اس فعل میں اگر امتداد ہو تو ہر جزو پر نیت کی حاجت نہیں ہوتی البتہ تضاد ( یعنی اس کے خلاف ) کی نیت نہ ہونا شرط ہے ـ جیسے کوئی شخص بازار جانا چاہے تو اول قدم پر تو قصد کرنا پڑے گا پھر چاہے کتاب دیکھتے ہوئے یا باتیں کرتے ہوئے چلے جاؤ ہر قدم پر قصد کی ضرورت نہیں ـ دوسری مثال سے سمجھ لیجئے کوئی ستار بجا رہا ہے اول مرتبہ تو قصد کی ضرورت ہے پھر خود بخود انگیاں چلتی رہتی ہیں بلکہ اگر ہر قرع پر مستقل قصد کیا جائے تو خوش نمائی کے ساتھ بجانے میں کامیابی بھی نہیں ہو سکتی ـ اسی طرح گفتگو ہے اگر ہر فقرہ پر ارادہ کرے تو فرمائیے کہ گفتگو میں کامیاب ہو سکتا ہے ؟ ہرگز کامیابی نہیں ہو سکتی ـ پس اسی طرح اعمال حسنہ ممتدہ میں اگر ہر جزو پرنیت مستقل نہ ہو تو وہم میں نہ پڑنا چاہئے ـ