ملفوظ 244: آجکل کے لیڈر اور شہرت مال کا نشہ

آجکل کے لیڈر اور شہرت مال کا نشہ فرمایا ! کہ آجکل جو مقتداء اور پیشوا کہلاتے ہیں چاہے وہ مذہبی ہوں یعنی علماء یا درویش یا سیاسی ہوں لیڈر شب و روز اکثر ان کو یہ فکر ہے کہ شہرت ہو مال حاصل ہو بعضے یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جتنا بڑا مالدار اتنا ہی بڑا عاقل ـ حالانکہ یہ خیال ان کا غلط ہے ـ البتہ ایسا شخص آکل تو ہو گا مگر عاقل ہونا ضرور نہیں ـ ہر وقت اکل کی فکر ہے عقل کی ایک بات بھی نہیں ـ بلکہ اس بے عقل ہونے کے متعلق خود مالداروں کا اقرار ہے میں اپنی طرف سے نہیں کہتا ـ وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس سو روپیہ ہوں تو اس کو ایک بوتل کا نشہ ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ نشہ میں عقل نہیں رہتی ـ اگر کسی کے پاس ایک ہزار روپیہ ہے تو اس کو دس بوتلوں کا نشہ ہوا پھر عقل کا وہاں کیا کام ـ دین کی باتوں کیلئے تو مؤذن اور ملا ہی کی ماننی چاہئے ـ ان کی ہی رائے معتبر ہے