ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل اللہ اور خاصان حق کی شان ہی جدا ہوتی ہے ۔ ان کا کوئی کام بھی نفس کے واسطے نہیں ہوتا ، ہاں نفس کے کچلنے اور پیسنے کے واسطے ہر وقت تیار رہتے ہیں ۔ ایک بزرگ کی ایک شخص نے دعوت کی ، بلا کر لے گیا اور گھر جا کر کہا کہ آپ خواہ مخواہ چمٹے پھرتے ہیں کس نے آپ کی دعوت کی ، وہ بزرگ چل دیئے ، پھر وہ آ کر کہتا ہے کہ آپ بھی عجیب آدمی ہیں میں نے دعوت کی تھی یہ کھانا پکا ہوا رکھا ہے ، آپ چھوڑ کر چلے جا رہے ہیں.
اس کو کون کھائے گا ، آپ پھر چلے آئے ، کئی مرتبہ اس شخص نے ایسی ہی حرکت کی وہ شخص قدموں پر گر پڑا کہ واقعی آپ بزرگ ہیں ۔ سن کر فرماتے ہیں کہ یہ تو کوئی بزرگی نہیں یہ تو کتے کی بھی خاصیت ہے ٹکڑا دکھلا دیا آ گیا ، ڈنڈا دکھلا دیا بھاگ گیا مگر اس قسم کی حرکات بزرگوں کے ساتھ کرنا سخت خطرناک بات ہے ۔ مگر ان کے یہاں رعایت کا کچھ ٹھکانا ہی نہیں ۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں :
شنیدم کہ مردان راہ خدا دل دشمناں ہم نکردند تنگ
تراکے میسر شود ایں مقام کہ بادود ستانت خلاف است جنگ
