ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس طریق میں طلب صادق کی ضرورت ہے بدون سچی طلب کے کامیابی مشکل ہے جیسے دوا وہیں اثر کرتی ہے جہاں بیماری ہو پانی وہیں جا کر ٹھرتا ہے جہاں نشیب ہو اونچے پر پانی نہیں چڑھا کرتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ طلب صادق کی بدولت سب شرائط اور آداب طریق کے آسانی سے پورے ہو جاتے ہیں پھر منزل مقصود قریب ہے بس پستی اور شکستگی کی ضرورت ہے اور یہ ایسی ضروری چیز ہے کہ اس راہ میں قدم رکھنے سے پہلے اس کو پیدا کر لینا چاہیے ۔ اب رہی یہ بات کہ وہ کس طرح پیدا ہو تو اس کا یہی طریقہ ہے کہ کسی کی جوتیاں سیدھی کرے اور اپنی رائے کو اس کی رائے کے سامنے فنا کر دے اپنی عقل کو اس کے سامنے مٹا دے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
فہم و خاطر تیز کردن نیست راہ جز شکستہ می نگیرو فضل شاہ
اور پستی اور شکستگی کی نسبت فرماتے ہیں :
ہر کجا پستی آب آں جارود ہر کجا مشکل جواب آں جارود
ہر کجا دردے دوا آں جارود ہر کجا رنجے شفا آں جارود
11 شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز جمعہ
