ایک صاحب نے تعویذ مانگا مگر نہایت آہستہ آواز سے اور یہ بھی نہیں کہا کہ کس ضرورت کے لیے تعویذ چاہیے ۔ حضرت والا نے فرمایا کہ کیا تم عورت ہو عورت کی آواز تو بے شک عورت ہوتی ہے اس کو آہستہ بولنا چاہیے کوئی کبھی آواز سن کر عاشق نہ ہو جائے اس کے زور سے بولنے میں فتنہ ہے اس لیے زور سے نہ بولنا چاہیے مگر تم کو کیا ہوا ، کیا عادتیں خراب ہو گئی ہیں میاں زور سے بولو کیا سب نے قسم ہی کھا رکھی ہے کہ ضرور دق کریں گے اگر آدمیوں کی طرح خدمت لی جائے میں خدمت کو حاضر ہوں ، پریشان کر کے کام لینا یہ کون سا طریقہ ہے پریشان کرنا اور خدمت لینا یہ آدمیت نہیں یہ تو حیوانیت ہے پھر ذرا آواز سے عرض کیا کہ تعویذ دے دو ، فرمایا کہ خیر بولے تو مگر بات پھر بھی ناتمام ہی کہی اس لیے جو کچھ تم نے کہا میں سمجھا نہیں جب وہ بتلانے پر بھی نہ سمجھے اس پر حضرت والا نے فرمایا کی جاؤ ہٹو پیچھے بیٹھو ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ اگر لکھ کر دے دیا کریں ، یہ اچھا ہے زبانی کہنے سے فرمایا کہ بات تو اچھی ہے مگر جب سلیقہ نہیں لکھنے میں بھی گڑبڑ ہی کریں گے ۔
