ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میرے مواعظ کثرت سے دیکھا کریں اس سے انشاء اللہ تعالی بہت نفع ہو گا اور جلد ہو گا ، وعظوں میں خدا کے فضل سے سب کچھ ہے اور ملفوظات مواعظ سے بھی زیادہ نافع ہیں اس لیے کہ ان میں خاص حالت پر گفتگو ہوتی ہے جو طالب کے لیے بے حد مفید ہے اور وعظوں میں سے بھی ایسے مضامین جو کہ طالبین کے حالات کے موافق ہوں طالبین انتخاب کر سکتے ہیں پھر وعظوں کے متعلق فرمایا کہ مجھے جب کوئی شخص بیعت کی درخواست کرتا ہے تو میں اول اس کو یہ ہی لکھتا ہوں کہ میرے مواعظ کو دیکھو اور اس سے جو حالت میں تغیر ہو اس سے اطلاع دو اس طرح پر وہ نفع ہوتا ہے کہ دس برس کے مجاہدہ پر بھی نہیں ہوتا میں نے تو ایک مرتبہ خواجہ صاحب سے کہا تھا کہ میں تو اول ہی دفعہ میں طالب کو خدا تک پہنچا دیتا ہوں ، مراد اس سے یہ ہے کہ اول ہی روز طالب کے سر پر فکر سوار کر دیتا ہوں کہ جب فکر ہوتی ہے تو خود راستہ تلاش کرتا ہے اس جویائی اور فکر کی بدولت فضل خداوندی دستگیری کرتا ہے راہ پر لگ جاتا ہے ۔ یہی حقیقت ہے اس طریق کی جس کی بدولت بندہ کو تعلق مع اللہ صحیح معنوں میں حاصل ہو جاتا ہے اور یہ سب تدابیر کا درجہ ہے جس سے مقصود تک رسائی ہوتی ہے باقی اوراد وہ اصلی تدابیر بھی نہیں ، صرف معین مقصود ہیں ۔ یہ جہلا نے خلط کر رکھا ہے کہ مقصود کو غیر مقصود اور غیر مقصود کو مقصود سمجھنے لگے بحمد اللہ اب فن تصوف صدیوں کے لیے صاف ہو گیا ۔
13 شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم یک شنبہ
