ایک صاحب نے دستی استفتاء پیش کیا ۔ حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ ممکن ہے کہ کتاب دیکھ کو جواب لکھوں تو آپ کو کس طرح پہنچاؤں گا ۔ اس پر ان صاحب نے نہایت آہستہ آواز سے جواب دیا کہ سب کو حضرت والا نہ سن سکے اس پر تنبیہ فرمائی کہ ایسے طریق سے کلام کرنا چاہیے کہ دوسرا سن سکے اس تنبیہ پر بھی ان صاحب کی آواز میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ، فرمایا کہ آپ سنانے سے معذور ہیں اور میں سننے سے معذور ہوں ، بند کی جائے گفتگو یہ آج کل کا ادب رہ گیا ہے کہ جس سے دوسرے کو اذیت پہنچے ( نوٹ ) جامع ملفوظات نے اس استفتاء کے رکھنے یا واپس کر دینے کا ذکر نہیں کیا ، غالب تو یہی ہے کہ واپس کر دیا ہو گا ۔ ( محشی )
