ملفوظ 232: اھل خانقاہ کو ایک دوسرے سے محبت ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہاں کے قانون میں داخل ہے کہ کوئی کسی سے زیادہ نہ ملے نہ کوئی کسی کے حجرہ میں جائے اپنے کام میں لگا رہے ـ مگر اس پر بھی جب یہ حضرات دوسری جگہ جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں رشتہ اخوت کوٹ کوٹ کر بھرا گیا ہے ـ فرمایا کہ مجھے تو یہ معلوم نہیں آج ہی سنا ہے وہ بھی ثقہ راوی سے ـ حضرت ! میں تو ایک چیز کا اہتمام کرتا ہوں یعنی اللہ سے تعلق کا اور اس کا کہ اس کے بعد ضعیف سے ضعیف سبب بھی مرتفع کر دیا جائے اور دین کو قلوب میں راسخ کر دیا جائے اسی کی کوشش کرتا ہوں پھر اللہ تو واحد ہیں جب سب ان کو مانیں گے تو متحد تو خود ہی رہیں گے ـ
