ملفوظ 233: دنیاوی معاملات میں لوگوں کو مشورہ نہ دینے کی وجہ فرمایا ! کہ ایک شخص کا خط آیا ہے اپنی تجارت کے قصے جھگڑے لکھ کر لکھا ہے کہ میں اب کیا کروں ـ میں جواب میں لکھ دیا ہے کہ اب یہ کرنا چاہئے کہ مجھ سے ایسی بات نہ پوچھنا چاہیے ـ ہاں دعا کرتا ہوں ـ فرمایا کہ ایک اور صاحب نے اسی طرح لکھا تھا کہ بعضے لوگ مجھ کو مشورہ دیتے ہیں کہ نانوں کی دکان کر لو کوئی کہتا ہے کہ دواؤں کی دکان کر لو مجھ کو کیا کرنا چاہئے ـ میں نے لکھ دیا کہ میرا باپ نہ کھٹ بنا تھا نہ پنساری ! مجھے ان چیزوں میں تجربہ نہیں ـ کسی تجربہ کار سے معلوم کر کے عمل کرو ـ میرے دو کام ہیں ایک دعا کرا لو ـ چاہے وہ دنیا ہی کیلئے سہی وہ بھی عبادت ہے دوسرے اللہ کا نام پوچھ لو ـ
فرمایا کہ اتنا تو یہ لوگ بھی سمجھتے ہیں کہ ان کو تجربہ نہیں مگر پھر بھی ایسی بات پوچھنے کی کیا وجہ ـ یوں سمجھتے ہیں کہ اللہ والوں سے اس لئے پوچھ کر کرنا چاہئے کہ ان کے دل میں وہی آئے گی جو ہونے والی ہے اس بناء پر ایسی باتیں ایسے لوگوں سے پوچھی جاتی ہیں ـ حالانکہ یہ غلو ہے ـ حاصل یہ ہے کہ اس مشورہ کا منشاء عقائد کی خرابی ہے میں اس جہل سے بھی لوگوں کو بچانا چاہتا ہوں کہ دھوکے میں نہ رہیں اور بعض حضرات جن کا مجھ سے بے تکلفی کا تعلق ہے ان سے معلوم ہوا کہ عوام کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ جو کہتے ہیں وہی ہو جاتا ہے ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہی عقیدہ ہمارا بھی ہے کہ وہی ہو جاتا ہے فرمایا اعتقاد میں بھی درجات ہیں اور بناء جدا جدا ہیں ـ عوام کے اعتقاد کی نوعیت تو بہت ہی خراب ہے وہ تو یہ سمجھتے ہیں کہ خلاف ہو ہی نہیں سکتا بخلاف اہل علم کے ان کا اعتقاد اس درجہ کا نہیں ہو سکتا ـ 9 رمضان المبارک 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شن
