( ملفوظ 70 ) اھل خدمت کا وجود

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل خدمت اکثر مجاذیب ہوتے ہیں ـ اور ان کے اسرار اکثر سمجھ میں نہیں آتے ـ اس قسم کے مضامین میں نے ایک وعظ میں بیان کئے ـ ایک عالم خشک نے اعتراض کیا
کہ یہ قرآن و حدیث سے ثابت نہیں کہ اہل خدمت بھی کوئی چیز ہوتے ہیں میں نے راوی سے کہا کہ ان سے پوچھنا چاہئے کہ حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعات کو کیا کہو گے گو یہ
اصطلاح قرآن میں نہ آئی ہو مگر عنوانات تو مقصود نہیں ہوتے ـ معنون مقصود ہوتا ہے ـ ایک صاحب کو سوال کو جواب میں واقعات خضریہ کے توجیہ میں فرمایا کہ غالبا پہلے شرائع میں کشف و الہام حجت ہوگا اور ہماری شریعت میں وہ حجت نہیں پھر اگر کسی بزرگ سے کوئی امر قولی یا فعلی جو ظاہرا منکر ہو ٖصادر ہو
اس میں دوسری تاویل کریں گے ـ بدگمانی کر کے ان حضرات کو ملحد اور دہری کہنا بڑے ظلم اورغضب کی بات ہے ـ پھر بطور تفریح کے فرمایا کہ ہم لوگوں کو وہابی کہتے ہیں کسی وہابی کے کلام میں تو صوفیا کی حمایت دکھلادو ـ