( ملفوظ 71 ) سماع سے متعلق ایک جاہل صوفی کا سوال اور اس کا جواب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان جاہل صوفیوں کی بدولت طریق بدنام ہو گیا ورنہ طریق بالکل
بے غبار اور واضح ہے ـ اس پر ایک واقعہ بیان فرمایا کہ ایک شخص صوفی الہ آباد میں ملے صاحب تصینیف تھے ـ انہوں نے مجھ سے سماع کے متعلق سوال کیا میں نے سوچا کہ یہ بتلایئے اس طریق کی روح کیا ہے جو حاصل ہے سلوک کا کہا کہ مجاہدہ میں نے کہا کہ مجاہدہ کی کیا حقیقت ہے کہا کہ
نفس کی مخالفت میں نے کہا کہ اب یہ بتلاؤ کہ تمھارا نفس سماع کو چاہتا ہے یا نہیں کہا کہ چاہتا ہے میں نے کہا کہ ہمارا نفس بھی چاہتا ہے مگر فرق یہ ہے کہ تم نفس سماع کو چاہا ہوا کرتے ہو اور ہم نہیں کرتے تو اس
حالت میں صاحب مجاہدہ تم ہوئے یا ہم درویش تم ہوئے یا ہم صوفی تم ہوئے یا ہم چپ رہ گئے اورکچھ سکوت کے بعد کہا کہ آج غلطی پر تنبیہ ہوا اور سمجھ میں آگئی پھر تائب ہو گئے ـ