ملفوظ 200: اہل ظاہر کو تقلید سے عار

اہل ظاہر کو تقلید سے عار فرمایا ! کہ اکثر اہل ظاہر ایک بہت بڑی دولت سے محروم ہیں کہ وہ اس طریق باطن کی حقیقت ہی سے بے خبر ہیں اور اس محرومی کا سبب اکثری انکا تکبر ہے یہ مرض بھی کم بخت روح کے لئے سم قاتل ہے ہر شخص ان میں کا مجتہد بنا ہوا ہے جس کا منشاء وہی کبر ہے یعنی اپنے کو بڑا سمجھنا یہی وجہ ہے کہ ان کو تقلید سے عار ہے جس کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ جہلاء تک اجتہاد کرنے لگے چنانچہ ایک دوست ورایت کرتے ہیں کہ ایک غیر مقلد صاحب نماز میں بحالت مامت کھڑے ہوئے جھوما کرتے تھے جب نماز سے فارغ ہو چکے تو ایک صاحب نے جو لکھے پڑھے تھے پوچھا کہ نماز میں حرکت کیسی ؟ کہا کہ حدیث شریف میں آیا ہے انہوں نے کہا کہ بھائی ہم نے تو آج تک بھی ایسی حدیث نہ پڑھی نہ دیکھی نہ سنی ـ جس کا یہ مطلب ہو کہ ہلکے نماز پڑھو لاؤ ہم بھی دیکھیں وہ کون سی حدیث ہے اور کس کتاب میں ہے ایک حدیث کی مترجم کتاب لا کر دکھائی اس میں حدیث تھی اذا ام احد کم فلیخففہ اور ترجمہ تھا کہ جب امامت کرے تو ہلکی نماز پڑھے آپ نے لفظ ہلکی بمعنی خفیف کو ہلکے بعنی حرکت پڑھا اور ہلنا شروع کر دیا یہ حقیقت تھی ان کے اجتہاد کی ـ فرمایا کہ حضرات فقہاء رضی اللہ عنہم کے حق تعالی درجات بلند فرمائیں انہوں نے ہمارے ایمانوں کو سنبھال لیا ورنہ چودھویں صدی کے یہ مجتہد ہیں جن کے اجتہاد کی یہ حقیقت اور کیفیت ہے ـ