ملفوظ 199: آج کل کے تعلیم یافتہ

ملفوظ 199: آج کل کے تعلیم یافتہ ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ آجکل کے جدید تعلیم یافتہ انگریزی خواں اپنے کو بڑا ہی قابل سمجھے ہیں مگر انہیں خاک بھی قابلیت نہیں ہوتی ـ اکثر سفر میں اتفاق ہوا ان لوگوں سے گفتگو کا ـ تجربہ سے معلوم ہوا کہ چند الفاظ ہیں جو ان لوگوں کو یاد ہیں باقی خاک نہیں آتا جاتا ـ میں جس زمانہ میں سفر کرتا تھا ایک مقام پر بلایا گیا تھا وہاں پر وعظ بھی ہوا تھا وعظ کے قبل ایک صاحب جنٹلمین صورت آئے اور کہنے لگے کہ میں نے سنا ہے کہ آپ علی گڑھ کالج کے لوگوں سے نفرت رکھتے ہیں میں نے سوچا اگر کہتا ہوں کہ نفرت ہے تب تو ان کی دل آزاری ہو گی اور اگر نہیں کہتا تو چاپلوسی ہے جو واقع کے خلاف ہے اس لئے کہ بغض وجوہ سے نفرت تو ہے ہی ـ اللہ نے دل میں جواب ڈال دیا ـ میں نے کہا کہ علی گڑھ والوں کی ذات سے تو نفرت نہیں مگر افعال سے نفرت ہے کہنے لگے کہ وہ کیا افعال ہیں ؟ میں نے کہا ہر فاعل کے افعال جدا ہیں کہنے لگے مثلا میرے کیا افعال ہیں ـ میں نے کہا کہ مجمع میں ظاہر کرنا مناسب نہیں ـ نیز ابھی نہ مجھ کو یہ اطمینان کہ آپ نیک نیتی سے پوچھ رہے ہیں نہ آپ کو یہ اطمینان ہو سکتا ہے کہ یہ خیر خواہی سے کہہ رہا ہے اس لئے اچھی صورت یہ ہے کہ آپ چند روز میرے پاس خاموشی سے رہیے ـ جب جانبین ایک دوسرے سے مطمئن ہو جائیں گے اس وقت بتلانا مفید ہو سکتا ہے پھر کچھ نہیں بولے سمجھ گئے ـ یہ جواب ایسا ہوا کہ نہ وہ مجھ کو متعصب کہہ سکتے تھے اور نہ چاپلوسی سمجھی جا سکتی تھی ـ امیں ایسے موقع پر اس کا بھی خیال رکھتا ہوں ـ کہ مخاطب کی تو ذلت نہ ہو اور حقیقت واضح ہو جائے ـ

اسی سلسلہ میں فرمایا کہ میں ایک مرتبہ سہارن پور کے سفر کے قصد سے قصبہ کے اسٹیشن پر پہنچا اسی گاڑی سے ایک طالب علم جو دہلی سے آئے تھے اترے مجھ سے ملے اور کہنے لگے کہ میں تو آپ ہی ملنے کو آیا تھا میں نے کہا کہ میں تو اس وقت سہارن پور جا رہا ہوں میری واپسی تک تم تھانہ بھون ٹھہرو ـ اوراگر جی چاہے بشرطیکہ کسی مصلحت کے خلاف نہ ہو تو سہارن پور چلیے میری طرف سے اجازت ہے ـ دونوں شقوں پر عمل آزادی سے کر سکتے ہو اپنی مصلحت دیکھ لیجئے وہ بولے کہ میں سہارن پور ہی چلتا ہوں میں نے کہا کہ ٹکٹ لے لو ـ انہوں نے کوشش بھی کی مگر گاڑی چھوٹنے والی تھی ٹکٹ نہ مل سکا ـ میں نے کہا گارڈ سے کہہ کر سوار ہو جاؤ اسٹیشن نانوتہ پر پہنچ کر میں نے ان سے کہا کہ یہاں تک کا کرایہ دیکر رسید لے لو اور یہاں سے سہارن پور تک ٹکٹ لے لو وہ گئے ٹکٹ مل گیا آ کر کہنے لگے کہ سہارن پور تک کا تو ٹکٹ مل گیا مگر تھانہ بھون سے نانوتہ تک کے ٹکٹ کیلئے گارڈ نے کہا کہ ہم معاف کرتے ہیں ـ میں نے کہا ریل ان کی ملک نہیں ان کی حیثیت نوکر کی ہے انکو کسی کو معاف کرنے کا اختیار نہیں ہے یہ معافی معتبر نہیں کرایہ ادا کرنا واجب ہے اور میں نے ان کو ادا کرنے کا طریقہ بتایا کہ تھانہ بھون سے نانوتہ تک کا ٹکٹ لے کر چاک کر دیا جائے یہ صورت سہل بھی ہے اور مالک کے قبضہ میں بھی پہنچ جائے گا اسی ڈبہ میں چند آریے بھی سوار تھے کہیں اوپر سے آ رہے تھے ان میں ایک انگریزی داں اور لیکچرار تھا اس نے جو یہ بات سنی کہنے لگا کہ میں اپنی ایک کمزوری بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ جب میں نے یہ سنا کہ ان کو معافی دیدی اور ٹکٹ کے دام نہیں لئے تو میں خوش ہوا کہ ایک غریب آدمی کا بھلا ہوا پیسے بچے مگر تمہاری تقریر سے معلوم ہوا کہ میری یہ خوشی بے ایمانی کی خوشی تھی ـ میں نے کہا کہ یہ آپ کی خوبی کی بات ہے کہ آپ نے محسوس فرما لیا پھر میں اپنے ہمراہیوں سے ہر طرح کی باتیں کرنے لگا تو وہ ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ معلوم نہیں ان لوگوں کی معملولی باتیں میں دل کو اتنی کشش کیوں ہوتی ہے ایک نے جواب دیا کہ یہ ان کے سچے ہونے کی علامت ہے سچ میں خاصیت ہے کہ اس طرف کشش ہوتی ہے ـ اب اس لیکچرار آریہ کا ـ اور گفتگو کرنے کو جی چاہا مجھ سے کہنے لگا کہ

اگر اجازت ہو تو میں آپ سے کچھ پوچھ سکتا ہوں ؟ میں نے کہا ضرور پوچھئے معلوم ہوگا عرض کر دونگا نہ معلوم ہوگا لا علمی ظاہر کر دونگا ـ اس نے سوال کیا کہ مثلا ود شخص ہیں انہوں نے ایک نیک کام کیا ایک ہی نیت ہے ایک ہی کام ہے اس کام کا ایک ہی نفع ہے ـ فرق صرف یہ ہے کہ ایک فاعل مسلم ہے ایک غیر مسلم ہے تو کیا ان دونوں کو اجر و ثواب برابر ہو گا یا نہیں ؟ میں سمجھ گیا کہ اس سوال سے مقصود اس کا یہ ہے کہ جواب تو یہی ملے گا کہ مسلم کو اجر وثواب ہوگا اور غیر مسلم کو نہ ہو گا ـ اس جواب پر اس کی گفتگو کی گنجائش تھی کہ یہ حکم تو بڑا تعصب ہے حالانکہ اس کا جواب ظاہر تھا کہ اذافات الشرط فات المشروط ” مگر میں نے اتنی بھی گنجائش نہیں دی دوسرے طرز پر جواب دیا چنانچہ میں نے کہا کہ مجھے تعجب ہے کہ آپ ایسے شائستہ اور مہذب اور دانشمند ہو کر ایسی بات پوچھتے ہیں جس کا جواب آپ کو معلوم ہے کہنے لگا کہ یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ اس کا جواب مجھے معلوم ہے ؟ میں نے کہا کہ اس کے مقدمات آپ کے ذہن میں پہلے سے ہیں اور مقدمات کیلئے مطلوب لازم ہے جب مقدمات کا علم ہے تو نتیجہ کا بھی علم ہے کہنے لگا یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ اس کے مقدمات میرے ذہن میں پہلے سے ہیں ـ میں نے کہا کہ میں ابھی بتاتا ہوں سنیے ! آپ کو معلوم ہے کہ مذاہب مختلفہ سب تو حق نہیں ہو سکتے ضرور ایک ہی حق ہو گا اور باقی سب باطل یہ معلوم ہے آپ کو ؟ کہا کہ جی معلوم ہے ـ میں نے کہا کہ ایک مقدمہ تو یہ ہوا اب یہ بتلایئے کہ صاحب حق مثل مطیع سلطنت کے ہے اور صاحب باطل مثل باغی سلطنت کے ـ یہ آپ کو معلوم ہے کہنے لگا کہ ہاں ـ میں نے کہا ایک مقدمہ یہ ہوا آ گے سنیئے کہ ایک شخص مطیع سلطنت ہے اور ایک باغی سلطنت اور وہ باغی سلطنت ایک بڑا ڈاکٹر ہے جو بڑا ماہر فن ہے انگریزی کی اعلی درجہ کی قابلیت ہے بیدار مغز ہے دنیا میں اس کا ثانی نہیں مگر باوجود ان سب کمالات کے اس میں ایک ایسی بات ہے کہ اسکے یہ سب کمالات گرد ہیں اور وہ باغی ہونا ہے کہ سلطنت سے بغاوت کرتا ہے اس پر گورنمنٹ اس کو پھانسی کا حکم دیتی ہے اس وقت اگر کوئی کہے کہ ہائے بڑا ظلم ہے محض بغاوت کے الزام میں پھانسی کا حکم دیتی ہے حالانکہ یہ شخص ایسا تھا، ویسا تھا ، تو کیا عقلاء کے نزدیک یہ اعتراض

صحیح ہو سکتا ہے کہا کہ نہیں ـ میں نے کہا کہ بس اسی طرح آپ یہاں بھی سمجھئے دیکھئے ـ یہ آپ کے ذہن میں پہلے سے تھا یا نہیں کہنے لگا ـ ہاں میں نے کہا بس ایسی حالت میں سوال کرنا استفادہ یا افادہ کے لیے نہیں ہو سکتا بلکہ حصل اس سوال کا صرف یہ نکلتا ہے کہ میں اپنی زبان سے آپ کو کافر کہوں ـ اس شخص نے قسم کھا کر کہا کہ واقعی منشا میرا یہی تھا کہ ایسی زبان سے کافر سننا چاہتا تھا ـ ایسی زبان سے کافر سننا میرے لئے لذت کا باعث ہے ـ میں نے کہا کہ آپ کی خوبی ہے مگر میرے لئے نہایت بد نما بات ہے ـ میری اسلامی تہذیب مانع ہے کہ میں بلا ضرورت آپ کو کافر کہوں ـ بلا ضرورت کی قید اس لئے لگائی کہ کافر تو ہم کہتے ہی ہیں مگر بیٹھے ہوئے تسبیح پڑھا کریں یہ بھی نہیں وہ شخص بے حد متاثر ہوا ـ پوچھنے لگا کہ آپ کا مکان کہاں ہے میں نے کہا کہ ایک گاؤں ہے تھانہ بھون کہنے لگا کہ میری بد قسمی کہ آپ سے ملاقات نصیب نہ ہوئی میں تو تھانہ بھون سماج میں جایا کرتا ہوں لیکچر دینے کیلئے اب کبھی حاضری ہوگی تو ضرور نیاز حاصل کروں گا ـ میں نے کہا کہ ضرور آیئے آپ کا گھر ہے پھر آیا گیا تو ہے نہیں ـ