( ملفوظ 228)ایک عسائی سے مناظرہ :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک بہت بڑے عالم مناظر بھی ہیں وہ میری نسبت کہتے تھے کہ تجھ سے اتنا بڑا مناظر میں نہیں دیکھا اور یہ بھی کہتے تھے ـ کہ چاہے خصم عناد کی وجہ سے ساکت نہ ہو مگر ایسی ہوتی ہے کہ اس سے ٹھکانے کی بات نکل آتی ہے اور حق واضح ہوجاتا ہے میں نے جواب میں کہا کہ تم نے یہ بات سمجھی ہوگی مجھے تو واقعی یہ بھی معلوم نہیں کہ مجھ مناظر سے کچھ مناسبت بھی ہے البتہ شروع طالب علمی کے زمانے میں تو تجھ کو اس سے بہت زیادہ دلچسپی تھی مگر اب تو نفرت ہے ایک مرتبہ طالب علمی کے زمانہ میں ایک عیسائی مناظر انگریز دیوبند کے اسٹیشن کے قریب ایک باغ ہے وہاں اسکا قیام ہوا میں خبر پاکر مناظرہ کے لئے وہاں پہنچا اور مناظرہ شروع ہوا اسی اثنا میں حضرت مولانا دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کو علم ہوا خیال ہوا کہ یہ نا تجربہ کار ہے اور عیسائی کہنہ مشق اس لئے مناظرہ کے دوران میں تشریف لے آئے اسوقت عیسائی مناظر تقریر کر رہا تھا میرے جواب دینے کی نوبت نہ آئی تھی مولانا نے مجھ سے فرمایا کہ میں گفتگو کرونگا میں الگ ہو گیا اور عیسائی مناظر یہ کہہ رہا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کلمۃ اللہ گھے مولانا نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ کلمہ کسے کہتے ہیں اور اسکی کتنی قسمیں ہیں اور عیسی علیہ السلام کونسی قسم میں داخل تھے بس اسکے ہوش و حواس گم ہو گئے بار بار یہی کہتا جاتا تھا کہ کلمہ تھے مولانا فرماتے کونسا کلمہ کلمہ تو بہت قسم کا ہوتا ہے تو کلمہ کی تعریف اقسام بیان کرو اور یہ بتاؤ کہ عیسیٰ علیہ السلام کس قسم کے کلمہ ہیں جب نہیں بتلا سکا تو اسکی میم نے خیمہ میں دیکھا کہ یہ جواب نہیں دے سکتا تو ایک پرچہ لکھ کر مناظرہ بند کر دیا یہ عورتوں کے تابع ہوتے ہیں ـ مناظرہ چھوڑ کر چلدیا مزاحا فرمایا کہ یہ لوگ مادیات میں ہی چلتے ہیں نریات میں خاک بھی نہیں چلتے دوسرے واقعہ دیوبند ہی میں مدرسہ کے قریب ایک عیسائی آکر بیان کرنے لگا خبر سن کر مناظرہ کے لئے تیار ہو گیا اس نے انجیل ہاتھ میں لیکر مجھ سے سوال کیا کہ یہ کیا ہے اس کامطلب یہ تھا کہ یہ کہے گا کہ انجیل ہے پھر وہ کہتا کہ قرآن مجید بھی انجیل کو آسمانی کتاب کہتا ہے پھر میں اسکا محرف ہونا ثابت کرتا ایک بکھیڑا تھا ایک صاحب آگے حکیم مشتاق احمد وہ کہنے لگے کہ ایسے جاہلوں سے تم کیوں مناظرہ کرتے ہو ان سے جاہل ہی نبٹتے ہیں اور صاحب خود مناظرہ کو تیار ہوگئے وہ انجیل ہاتھ میں لئے ہوئے تھا ہی ان سے بھی یہ ہی سوال کیا کہ یہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ ہے کدو بے حد جھلایا کہ تم گستاخی کرتا ہے کہ تم تو توہین کرتا ہے انہوں نے کہا کہ اس میں گستاخی اور توہین کی کیا بات ہے ہم اپنی علم سے یہی کہتے ہیں کہ یہ کدو ہے غالبا مقصود یہ ہوگا کہ جب منسوخ ہونیکے علاوہ ممسوخ ہے تو معطل ہے مثل کدو کے خیر یہ تو ایک لطیفہ تھا باقی تتبع سے محض ہوچکا ہے کہ علوم حقیقیہ مسلمانوں ہی کا حق ہے دوسروں کو ان سے مس بھی نہیں ہوتا مزاحا فرمایا ہاں مس سے مس ہوتا ہے ـ