( ملفوظ 229)متعدد مہمانوں کو کھانا کھلانے کا اصول

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرا ایک یہ بھی معمول ہے کہ اگر متعدد مہمان ہوں اور ان میں پہلے سے کوئی تعلق نہ تو ان کو ایک جگہ جمع کر کے کھانا نہیں کھلاتا اگر خود بھی ساتھ کھاتا ہوں تب جمع کر لیتا کیونکہ اس وقت میں خود ان سب کے لئے واسطہ ہو جاتا ہوں اور مجھ سے سب کو واسطہ ہوتا ہے یہ بات کبھی نہ سنی ہوگی مہمانوں کے باب میں اسقدر رعایتیں کرتا ہوں اور پھر سخت مشہور ہوں یہ معمول اس لئے ہے کہ کھانے پینے میں مختلف لوگوں کے جمع ہونے کی وجہ سے آپس میں بے تکلفی نہ ہونے کی وجہ سے انقباض ہوتا ہے ـ دل کھول کر فراغت سے کھانا نہیں کھایا جاتا مختلف طبائع مختلف رنگ کی ہوتی ہے بعض طبیعتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جب تک بے تکلفی نہ ہو کھانے میں حجاب ہوتا ہے ـ