( ملفوظ 556) ایک غیر مقلد کا گستاخانہ خط

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ادب محض تعظیم و تکریم کا نام نہیں اصل ادب یہ ہے کہ دوسرے کو دل آزاری سے بچانا اور راحت کا اہتمام کرنا ( کما فی القاموس حسن التستاول فی الصراح نگاہ داشت حد ہر چیزاہ و داخل ما ذکر فیہ ) ایک غیر مقلد صاحب کا خط آیا تھا نہایت گستاخانہ میں نے ان کو نہایت نرم جواب دیا اور اس میں ضروری اصول کی رعایت رکھی ۔ میں نے لکھا کہ اگر آپ کو مجھ سے استفادہ مقصود ہے تو یہ لہجہ استفادہ کا نہیں اور اگر افادہ مقصود ہے میں نہایت خوشی سے اجازت دیتا ہوں کہ آپ مجھ کو میری غلطیوں پر اطلاع دیں لکھا ہے کہ مجھ کو استفادہ مقصود ہے افادہ وہ کر سکتا ہے جس کو مساوات کا درجہ حاصل ہو میں تو خادم ہوں جوتیوں کے برابر بھی درجہ نہیں رکھتا مگر پھر بھی تحریر کا رنگ مناظرانہ ہے عجیب حالت ہے لوگوں کی ایک ہی وقت میں ایک ہی تحریر میں دو متضاد باتیں جمع پھر اس پر دعوے علم کا ۔ میں نے لکھ دیا ہے کہ یہ تو مشاہدہ ہو گیا کہ یہ لہجہ افادہ کا ہے پس اب آپ مجھ کو میری غلطیوں پر اطلاع دیں میں نہایت ٹھنڈے دل سے انشاء اللہ غور کروں گا لیکن اسی کے ساتھ آپ کو جواب نہ دوں گا اگر غلطی سمجھ میں آ جائے گی تو ترجیح الراجح میں شائع کر دوں گا اس کے بعد فرمایا کہ میرے عنایت فرماؤں نے درحقیقت مجھ پر بڑا احسان کیا ہے کہ میرے لئے سہولت پیدا کر دی وہ یہ کہ میں نے تصانیف کیں جن کی تصحیح کے لئے اگر میں اہتمام کرتا تو کتنا روپیہ خرچ ہوتا اب انہوں نے غور کر کے غلطیاں نکالیں اور میں نے ترجیح الراجح میں شائع کر دیں اور کہتا رہتا ہوں تو مفت میں اتنا بڑا کام ہو گیا اور خدا نہ کرے مجھ کو ضد تھوڑا ہی ہے یہ تو دین ہے اس میں سب ہی مسلمانوں کی شرکت ہے سب مل کر خدمت کریں ان معترض صاحب کا ایک اخبار بھی شائع ہوتا ہے یہ صاحب اس میں کفار کی مدح بھی لکھتے ہیں اسی بناء پر میں نے ان کو لکھ دیا کہ اپنا اخبار میرے پاس نہ بھیجا کریں اس میں کفار کی مدح ہوتی ہے غضب یہ کیا ہے اس شخص نے کہ اولی الامر منکم میں کافر حکام کو داخل کیا ہے کچھ تاویل سوچ لی ہو گی اور تاویل کون سی بڑی مشکل چیز ہے ۔ ایک مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ تاویل کا اتنا بڑا پھاٹک ہے کہ اگر دو ہاتھی اوپر نیچے کھڑے کر کے نکال دیئے جائیں تو بے تکلف نکل سکتے ہیں ۔ یہ حالت ہے سمجھ اور فہم کی کہ محض دنیوی اغراض کے لئے آیات و احادیث میں بھی تحریف کرتے ہیں کتنی بڑی جہالت ہے اگر ایسے جاہل سے خطاب کیا جائے ، کیا امید ہے سمجھنے کی جبکہ مخاطب میں فہم بھی نہ ہو تدین بھی نہ ہو اگر ایسی فضولیات کے روکنے کی طرف متوجہ ہوا جائے تو ضروری کام سب چوپٹ ہو جائیں اس لئے :
و اذا خاطبھم الجاھلون قالوا سلاما پر عمل کیا جاتا ہے ۔