( ملفوظ 557) تصویر کی حرمت کے منکر ایک صاحب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مرتبہ میں دہلی گیا تھا احمد مرزا فوٹو گرافر کی دکان پر قیام تھا ایک صاحب تصوف کے حامی مگر شریعت میں بدنظامی دکان پر آ کر کہنے لگے کہ ذرا مرزا جی کو سمجھائیے انہوں نے اسلام کو بڑا صدمہ پہنچایا کہ فوٹو سے توبہ کر لی میں نے کہا کہ معصیت کے ترک سے اسلام کو کیا صدمہ پہنچا بلکہ قوت ہوئی کہنے لگے کہ اس میں معصیت کی کیا بات ہے میں نے کہا کہ آپ تو ایسے پوچھ رہے ہیں کہ جیسے کبھی آپ کی دکان میں بھی یہ بات نہ پڑی ہو کیا اس کے لئے اتنا سمجھ لینا کافی نہیں کہ نھی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم غلام ہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس کے بعد کس تحقیق کی ضرورت ہے اور اگر ہم اس پر بھی اپنی تحقیق پر احکام کا مدار رکھیں اور تمام احکام کے علل معلوم کیا کریں تو وہ تو اپنی تحقیقات کا اتباع ہو گا اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا تو اتباع نہ ہوا اور اگر ایسے ہی علل پر مدار ہے احکام کا تو بتلاؤ زنا کی حرمت کی کیا علت ہے کہنے لگے کہ یہ تو معلوم نہیں میں نے کہا میں بتلاتا ہوں اس میں دو علتیں ہیں ایک خلط نسب دوسرے مردوں میں باہم تقاتل و تجادل ۔ بڑے خوش ہوئے کہنے لگے بہت ٹھیک ۔ میں نے کہا کہ عورت کو ایسی دوا کھلا دی جائے جس سے علوق کا احتمال نہ رہے نیز زانی مردوں میں باہم ایسا تعلق و تعشق ہو جس میں تجادل و تقاتل کا بھی احتمال نہ رہے تو کیا پھر زنا حلال ہو جائے گا بس دم بخود رہ گئے یہاں پر ایک ڈپٹی کلکٹر آئے تھے مجھ سے کہنے لگے کہ میں آپ سے کچھ پوچھ سکتا ہوں یہ ان کا اجازت لینا برائے نام ہوتا ہے یہ بھی ایک رسم ہے کہ یہ الفاظ ضرور کہے جائیں اس لئے کہ اگر اجازت نہ ہو تو اس پر ناگواری ہوتی ہے شکایتیں کرتے ہیں میں اتنے ہی کہنے سے سمجھ گیا کہ کوئی ایسا ہی سوال کریں گے جس خیال کے ہیں یہ بھی ان جدید تعلیم یافتوں میں مرض ہے کہ نصوص میں عقلی شبہات نکالا کرتے ہیں شبہ کرنا ہی دلیل ہے جہل کی اس لئے شبہ ناشی ہوتا ہے جہل سے اس لئے وہ جلدی ان کے ذہن میں آتا ہے کیونکہ جاہل کو جہل سے زیادہ مناسبت ہے اور جواب ناشی ہوتا ہے علم سے اس لئے وہ ان کی سمجھ میں جلدی نہیں آتا کیونکہ جاہل کو علم سے زیادہ مناسبت نہیں غرض میں نے ان کو اجازت دے دی اس پر انہوں نے سوال کیا کہ سود کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے میں نے کہا کہ میرا خیال ہونا آپ کو معلوم ہے کہ میں مذہبی شخص ہوں قرآن و حدیث کا حکم ظاہر کر دینا میرا کام ہے ۔ فلسفی شخص نہیں ہوں نہ فلسفیات کا ذمہ دار قرآن و حدیث سے جواب دوں گا اس میرے جواب پر اور ان اصول موضوعہ کی بناء پر ان کے سوالات کا بہت بڑا ذخیرہ تو ختم ہو گیا میں نے کہا کہ جواب سنئے وہ یہ کہ حق تعالی فرماتے ہیں :
و احل اللہ البیع و حرم الربوا
کہنے لگے حسن نظامی دہلوی تو ربوا کی یہ تفسیر کرتے ہیں میں نے کہا کہ آپ قانون کی جن دفعات کی بناء پر فیصلے دیتے ہیں آپ وہ قانون اور وہ دفعات مجھے دیجئے میں اس کی شرح کروں گا آپ اس میری شرح کے ماتحت فیصلہ لکھا کریں پھر دیکھئے کہ گورنمنٹ کی طرف سے آپ پر کیسی لتاڑ پڑتی ہے اور جواب طلب ہوتا ہے اس جواب طلب ہونے پر اگر آپ گورنمنٹ سے کہیں کہ فلاں شخص نے قانون کی یہی شرح لکھی ہے وہ شخص عربی فارسی اردو سب جانتا ہے اس سے میں نے یہ فیصلہ لکھا ہے تو یہی جواب ملے گا کہ زبان دانی اور چیز ہے قانون دانی اور چیز ہے طالب علم ہونا اور چیز ہے قانون دان ہونا اور چیز ہے بس یہی جواب اس تفسیر کے متعلق ہمارا اس شخص کی تفسیر ایسی ہی ہے کہ جیسے میں قانون کی شرح لکھوں تو حسن نظامی ہونا اردو داں ہونا اخبار نویس ہونا اور بات ہے مفسر ہونا اور چیز ہے کہنے لگے مگر ترقی بدون سود کے نہیں ہوتی میں نے کہا کہ اگر ترقی ایسی ہی مقصود بالذات ہے چاہے وہ مقصود چوری سے حاصل ہو جائے ڈکیتی سے حاصل ہو تو اختیار ہے ان ذرائع سے ترقی کرو مگر احکام میں کیوں کتربیونت کرتے ہو اور شریعت مقدسہ میں کیوں تحریف کرتے ہو اس کی صورت یہ ہے کہ سود کو حرام سمجھ کر لیا کرو ترقی ہو گی کیونکہ ترقی کو اس سے کیا غرض کہ کیا حلال ہے کیا حرام ہے اور اس کو اس نیت کی کیا خبر کہ کس نیت سے لیتا ہے تو ترقی تو حرام سمجھتے ہوئے بھی ہو رہے گی سو ترقی کی یہ صورت ہے یہ سن کر بڑے خوش ہوئے اور ساتھیوں سے کہنے لگے کہ یہ ہے بڑا فلسفہ میں نے یہ بھی کہا کہ حرام سمجھ کر لینے میں محض جرم ہو گا مگر بغاوت نہیں ہو گی اور بہ نسبت بغاوت کے کہ اس کو حلال سمجھ کر لیتے حرام سمجھ کر لینے میں کم پٹو گے باقی میرا یہ کہنا کہ حرام سمجھ کر لو یہ خود بتلا رہا ہے کہ میں نے لینے سے منع کیا ہے نہ یہ کہ اجازت دی ہے مگر اس سمجھنے کے لئے بھی عقل اور فہم کی ضرورت ہے اور یہ لوگ پہلے ہی سے اس سے کورے ہوتے ہیں اگر یہ کم فہمی نہ ہو تو یہ شبہات ہی کیوں پیدا ہوں یہ میںنے اس لئے کہہ دیا کہ کبھی میرے کلام سے اجازت سمجھ لیتے حقیقت یہ ہے کہ ان اختراعی مصالح نے لوگوں کے دین کا ناس کیا ہے حالانکہ سالن جب ہی مزیدار ہوتا ہے کہ جب مصالح کو خوب پیس دیا جائے غرض مصالح شریعت مقدسہ پر مقدم نہیں ہیں بلکہ شریعت مصالح پر مقدم ہے حضرت مجدد صاحب فرماتے ہیں کہ شرائع میں حکمت اور مصلحت ڈھونڈنا مرادف ہے انکار نبوت کا کیونکہ اگر نبوت کے قائل ہیں تو نبی کا حکم سن کر پھر ماننے اور عمل کرنے میں انتظار کس چیز کا ہے اور کیوں ہے ۔