فرمایا ! کہ ایک صاحب نے مبہم خط لکھا تھا میں اس کا حاصل نہ سمجھ سکا میں نے اس پر لکھا تھا کہ گول بات لکھی ہے میں سمجھا نہیٰں کہ مطلب تمہارا اس سے ہے کیا صاف لکھو ـ آج جواب میں لکھتے ہیں کہ میں خود گول ہوں اسلئے میری بات بھی گول ہے صاف نہیں ـ فرمایا ! کہ ایسے کوڑ مغزوں سے پالا پڑتا ہے اس میں میری کیا مصلحت تھی ان کی ہی مصلحت تھی جس بات کو میں سمجھا ہی نہیں اس کا جواب کیا دوں اس لئے لکھا تھا کہ صاف لکھیں گے میں سمجھ کر اس کا جواب دوں گا ـ اب فرمایئے مجھ کو سخت کہتے ہیں آخر میں نے اس میں کون سی سختی کی تھی جب ایک بات کو میں سمجھا ہی نہیں تو اس کا جواب کیا دیتا ـ بدفہمی بری چیز ہے اللہ بچائے ایسی بد فہمی اور کم عقلی کے متعلق فرمایا کہ میری عادت ہے کہ جو خط آتا ہے اسی مضمون پر خط کھینچ کر جواب لکھ دیتا ہوں اس پر ایک شخص نے لکھا تھا کہ میرے ہی خط پر آپ نے لکھ دیا میری بڑی اہانت کی ـ فرمایا کہ بندہ خدا ! میں نے تو اعانت کی اہانت نہیں کی ـ ایسے ایسے خوش فہم دنیا میں آباد ہیں ـ
