فرمایا ! کہ ایک صاحب چینی یہاں پر مہمان ہیں بے چارے حاجت مند ہیں مجھ سے کہتے تھے کہ خطاب عام کی صورت میں کچھ لکھ دیا جائے میٰں نے کہا کہ مجھے انکار نہیں مسودہ لکھ کر آپ مجھے دیدیں میں آپ کو اپنی عبارت میں نقل کر کے دیدوں گا اس سے پہلے ایک خاص شخص سے سفارش کرنے کو کہتے تھے اس سے میں نے صرف انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ یہ میرے معمول اور مسلک کے خلاف ہے آجکل خطاب خاص کی صورت میں سفارش کرنے کو میں پسند نہیں کرتا ـ اس سے دوسرے پر بار ہوتا ہے میں اس کو گوارا نہیں کرتا ـ بعض مرتبہ لوگ ان باتوں کی وجہ خفا ہو جاتے ہیں خفا ہوتے ہیں ہوا کریں ـ میں اپنے تجربات اور مسلک کی وجہ سے کس طرح چھوڑ دوں ـ
