ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر قرآن و حدیث میں یا فقہہ میں یا آئمہ مجتہدین کے اقوال میں شبہ ہو اس کو پوچھ سکتے ہیں باقی دنیا بھر کے اقوال کی کہاں تک کوئی ذمہ داری کر سکتا ہے اور میں آپ کو خیر خواہی سے مشورہ دیتا ہوں کہ جو حالت واقعی پیش آ جائے اور اس کے متعلق ضرورت ایسی ہو کہ بدون سوال کیے ضرر کا اندیشہ ہو صرف اس کو پوچھنا چاہیے ایک اور بات بھی کام کی بیان کرتا ہوں وہ یہ کہ جو شاگرد پڑھ رہا ہو یا مطب کر رہا ہو اس کو تو حق ہے سوال کا لیکن مریض کو فن کے متعلق سوال کرنے کا حق نہیں اس کو تو اپنی حالت بیان کر دینے کا حق ہے اس کے بعد طبیب کا اتباع کرے جس زمانہ میں کوے کے مسئلہ کا شور و غل ہوا بہت لوگ مجھ سے پوچھتے تھے میں ان سے پوچھتا کہ کیا کھاؤ گے ، کہتے نہیں میں کہتا نہ بتاؤں گا نہ تم پر پوچھنا فرض ہے نہ مجھ پر بتانا فرض اور عقیدہ کا مسئلہ نہیں اور یہ عادت کہ غیر ضروری چیزوں سے جن میں غیر ضروری سوال بھی آ گیا ، اجتناب رکھو ، اسلام کی خوبی میں سے ہے ۔ حدیث شریف میں ہے :
من حسن اسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ
اس پر میرا ایک مستقل وعظ بھی ہے اس کا نام ہے ترک مالا یعنی اس میں بالتفصیل اس پر بحث ہے جس میں الحمد للہ مفید اور مضر کی تقسیم پوری کر دی گئی ہے اس کو دیکھ لیا جائے ۔
