( ملفوظ 161 )اجزائے دین کی حفاظت کا اہتمام

” ملقب بہ النجاح فی الاصلاح ” ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فضولیات میں لوگ بکثرت مبتلا ہیں ۔ ایک صاحب نے لکھا کہ کیا مولوی ابوالخیر صاحب سے تمہاری کوئی گفتگو ہوئی جس میں وہ عاجز ہو گئے ، اس کو ضرور تحریر فرمائیں ، میں نے لکھا اگر تم کو وہ گفتگو نہ معلوم ہو تو کیا کچھ ضرر ہے اس پر جواب میں لکھتے ہیں کہ اس سوال میں میرے نزدیک اہمیت ہے اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا کہ اللہ تعالی آپ کی عمر دراز کرے ، میں نے جواب میں اس پر یہ اضافہ لکھا کہ ہاں اس لیے کہ تمہاری ایسی بیہودہ درخواست پر نکیر کرتا رہوں ۔ اگر میں وہ گفتگو لکھ دیتا خدا جانے اس سے کیا نتائج نکلتے ۔ اسی طرح ایک شخص نے سوال کیا بے لکھا پڑھا آدمی تھا کہ اگر طالب اپنے شیخ کی صورت کا تصور کیا کرے تو یہ کیسا ہے ؟ میں نے لکھا کہ یہ مشغلہ مقصود بالذات ہے بلکہ جس طرح جہلاء میں متعارف ہے وہ تو مقصود بالذات ہے نہ معلوم لوگوں کو ان فضولیات اور خرافات میں کیا لطف آتا ہے یونہی بیہودہ ، بے کار وقت کھوتے ہیں کام کی ایک بات بھی نہیں ۔ ایک بزرگ نے بلا ضرورت کسی سے کوئی سوال کر لیا تھا اس پر تنبیہ ہوئی ، تیس برس تک روتے رہے کہ میں نے کیوں فضول سوال کیا ، بڑی ضرورت ہے صحبت کامل کی بدون اس کے دین کی حفاظت مشکل ہے ۔ بزرگوں نے حفاظت دین کا بڑا اہتمام کیا ہے خود حضرات صحابہ کے طرز سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اس حفاظت کا کس قدر اہتمام تھا ۔ حضرت علی نے جمعہ کے روز نیا کرتا پہنا ، پھر قینچی لے کر کلائی پر سے آستین کاٹ ڈالی ، کسی نے پوچھا تو فرمایا کہ محض اس لیے کاٹ دی کہ میں اس کو پہن کر اپنی نظر میں اچھا معلوم ہوا ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو لوگوں نے دیکھا کہ مشک لیے ہوئے گھروں میں پانی بھرتے پھر رہے ہیں وجہ پوچھنے پر فرمایا کہ رومی قاصد نے میرے عدل کی مدح کی تھی اس کا علاج کر رہا ہوں ۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زبان ہاتھ میں لیے اور مارتے دیکھا اور پوچھنے پر فرمایا :
ھذا اوردنی الموارد آخر کہ کیا چیز ہیں ؟ اگر صحابہ سے یہ چیزیں منقول نہ ہوتیں تو خشک لوگ یہ کہتے کہ ان صوفیوں کو جنون ہو گیا ہے اور ان کو تو اب بھی کہتے ہیں اتنا اہتمام تھا حضرات صحابہ کو جب کامیابی ہو سکی اب اس کی وجہ ذرا وہ لوگ بتلائیں جو اس طریق کو بدعت کہتے ہیں ۔ بات اصل یہ ہے کہ ہم نے امراض نفسانی کو پہچانا ہی نہیں اگر پہچانتے تو کچھ اہتمام کرتے ۔