ایک نو وارد صاحب آئے حضرت والا نے سوال کیا کہ کہاں سے آئے اور کس غرض سے ـ اس پر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ـ فرمایا بھائی کہہ لو جو کچھ کہنا ہے اور کم از کم پہلے اپنا تعارف کرا دو ـ تاکہ یہ تو معلوم ہو کہ اتنا لمبا سفر کیا روپیہ اور وقت صرف کیا ـ اس سے تمہاری کیا غرض ہے ـ بغیر بولے اور بتلائے ہوئے دوسرے کو کیسے خبر ہو کوئی علم غیب تو ہے ہی نہیں ـ جس غرض کیلئے گھر سے سفر کیا آخر کوئی تو غرض اور وجہ دل میں ہوگی اس کو صاف صاٖف کہہ دو اور اس کا ظاہر کرنا کون سی بڑی مشکل بات ہے ـ اس پر بھی وہ کچھ نہیں بولے ـ حضرت والا نے فرمایا کہ ان آنے والوں کی حرکتیں کوئی نہیں دیکھتا کہ یہ آ کر کیا کرتے ہیں ـ میرے کہنے سننے پر شکایت کرتے ہیں ـ اس کی بالکل ایسی مثال ہے جیسے کوئی شخص چپکے سے کسی کے کوئی سوئی چبھو دے اور وہ کہے ہائے مر گیا ـ ارے ظالم یہ کیا کیا تو اس کے غل مچانے کو سب نے سن لیا اور اس کی حرکت کسی نے نہ دیکھی کہ چپکے سے اس نے کیا کیا ـ حضرت ! اگر یہ ہی برتاؤ دوسرے کے ساتھ ہو تب حقیقت معلوم ہو برداشت نہیں کر سکتے اس کو بھی غریب بڈھا مسکین ہی تحمل کر سکتا ہے اصلاح کا نام لوگوں نے سن لیا ہے اصلاح کی حقیقت سے بے خبر ہیں بڑی مشکل سے آدمی بنتا ہے ـ
