فرمایا ! کہ ایک مرید صاحب نے مجھے خط لکھا تھا آج تک کسی نے ایسا نہیں لکھا کہ نہ تم میرے پیر نہ میں تمہارا مرید ـ خواہ مخواہ دق کر رکھا ہے کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ان ہی حضرت کے متعلق معلوم ہوا کہ ایک قصبہ ہے یہاں سے د س بارہ کوس کے فاصلے پر وہاں پر خود کشی کرنے کو تیار ہو گئے لوگوں نے روکا اور سبب دریافت کیا تو کہتے ہیں کہ ایسی زندگی سے مر جانا ہی بہتر ہے جبکہ میرے پیر ہی مجھ ناراض ہیں ـ اس پر حضرت والا نے فرمایا کہ تعلق رکھے بغیر بھی نہیں بنتا ـ اور تعلق کی بناء پر ( تربیت کیلئے ) میں جو روک ٹوک کرتا ہوں اس کی بھی برداشت نہیں آخر پھر کام کس طرح چلے
