( ملفوظ 53 ) ایک صاحب کی گستاخی کا ذکر

فرمایا کہ آج کل فہم کا تو قحط ہی ہو گیا ، بیعت کو تو فرض و واجب سمجھتے ہیں اور جو اصل چیز ہے اتباع اس کا نام نہیں اور عوام کی اس باب میں کیا شکایت کی جائے ۔ ایک شخص گنگوہ میں تھے مولوی آدمی مجھ سے مرید ہو گئے جس زمانہ میں ایڈریا نوپل عیسائیوں نے فتح کر لیا تھا انہوں نے مجھ کو لکھا کہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی بھی تثلیث کا حامی ہے ( نعوذ باللہ ) مجھ کو ان کی اس کی حرکت پر بے حد صدمہ ہوا اور میں نے اپنے تعلق کو قطع کر دیا ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہ تو بے ادبی ہے ، فرمایا کہ بے ادبی کیا مجھ کو تو اس کے کفر ہونے میں شبہ ہے ، کیا اس کو صرف بے ادبی کہیں گے کہ اپنے کو بندہ بھی نہ سمجھے پھر نہ ندامت نہ شرمندگی یہ بے ادبی ہے اور کیا ایسے شخص سے تعلق رکھا جا سکتا ہے اور ایسی بیعت کو کیا چولہے میں ڈالے ۔