ایک سائل نے آ کر حضور والا سے سوال کیا ، فرمایا کہ دو چار پیسے تو دے سکتا ہوں اگر منظور ہوں تو صاف کہو روپیہ تو دے
نہیں سکتا وہ سائل اس پر خاموش رہا ، فرمایا کہ میں تو اپنا کام چھوڑ کر تمہاری طرف متوجہ ہوا اور تم کو اس کی پروا ہی نہیں ، بولتے ہی نہیں اگر منظور ہو تب کہہ دو نہ منظور ہو تب صاف کہہ دو یہ تو کوئی باریک بات نہیں ، عرض کیا کہ مجھ کو تو وہ ہزار روپیہ کے برابر ہیں ۔ فرمایا کہ اب بھی ادھوری بات کہی صاف بات کیوں نہیں کہتے ، تکلف کی باتوں سے کلفت ہوتی ہے میں اس سے زائد نہیں دوں گا ، اس پر وہ سائل اٹھ کر چل دیا ، فرمایا کہ یا تو ہزار کے برابر تھے یا سو کے برابر بھی نہ رہے ، توقع زائد مل جانے کی تھی مگر جب نا امیدی ہوئی چل دیئے ، اس واسطے تکلف کے جوابوں سے مجھے قناعت نہیں ہوتی ۔
