فرمایا لوگ میرے کہنے سننے کو تو دیکھتے ہیں مگر آنے والوں کی حرکات نہیں دیکھتے ۔ اب ان صاحب کی حرکت ملاحظہ ہو جو بیٹھے ہوئے میرے خطوط گھور رہے ہیں ، سو ان کا فعل تو ایسا ہے کہ عام طور پر اس کی خبر نہیں ہو سکتی اور میں نے جو احتسابا بولنا شروع کیا وہ سب نے سن لیا اس پر مجھ پر الزام رکھا جاتا ہے کہ سخت ہے پھر ان صاحب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اول تو بدون اجازت کسی کے خط کو دیکھنا شرعا جائز نہیں ۔ دوسرے لکھنے کے وقت اس کی طرف متوجہ ہونا کاتب کے قلب کو مشوش کرتا ہے ۔ اپنی اس حرکت کا سبب بیان کیجئے ، عرض کیا کہ قصور ہوا حضرت معاف فرمائیں ۔ فرمایا معافی کو تو معافی ہی ہے میں تو پھانسی تھوڑا ہی دے رہا ہوں ، جاؤ اٹھو یہاں سے یہ قریب میں بٹھلا لینے کی خرابی ہے ۔ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ یہاں پر گرمی کے زمانہ میں لوگ چارپائیاں ٹین کے نیچے ٹین سے باہر حوض کے قریب بچھا لیتے ہیں مگر معمول یہ ہے کہ اذان فجر کے وقت چارپائیں اٹھا لی جائیں تا کہ مسجد میں آنے والوں کو تکلیف نہ ہو اس لیے کہ وہ وقت اندھیرے کا ہوتا ہے ممکن ہے کہ کوئی ٹھوکر کھائے یا الجھ کر گر جائیں ، خطرہ کی بات ہے ۔ ایک روز ایسا ہوا کہ ایک طالب علم نے اپنی چارپائی نہیں اٹھائی ، بعد نماز فجر میں نے اس طالب علم سے مواخذہ کیا ، اتفاق سے اس وقت دو شخص امروہہ کے مہمان تھے ، ایک نے دوسرے سے کہا کہ یہ تو کوئی ایسی مواخذہ کی بات نہ تھی وہ بے چارے سن کر خاموش ہو گئے ۔ جب وہ یہاں سے وطن کو واپس ہوئے تو سہارن پور کی جامع مسجد میں شب کو ٹھرے کسی ضرورت کی وجہ سے بعد مغرب ایک برامدہ میں چلے ، کسی قدر اندھیرا تھا اور ایک چارپائی بیچ میں پڑی ہوئی تھی ، معترض صاحب اس میں الجھ کر گرے ، چوٹ آئی ، تب کہنے لگے واقعی ضرورت ہے اس انتظام کی ۔
