ایک شاہ صاحب کا جنت سے استغناء ظاہر کرنا ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جاہل فقراء بھی عجیب و غریب پڑیں ہانکتے ہیں کچھ خبر نہیں ہوتی کہ ہم کیا منہ سے نکالتے ہیں کلمہ کفر ہے یا شرک ہے جو منہ میں آیا کہہ دیا ـ ایک شاہ صاحب کانپور میں میرے پاس آئے اور مجھ سے دس روپیہ کی ضرورت ظاہر کی اور ایک سلسلہ گفتگو میں فرماتے کیا ہیں کہ ہمیں کیا پرواہ ہے جنت کی ـ میں نے کہا کہ شاہ صاحب توبہ کرو دس روپیہ پر تو رال ٹپکی جاتی ہے اور جنت سے استغناء ذرا دس روپیہ ہی سے استغناء فرما کر دکھا دیجئے گا اور میں نے کہا کہ وجہ اس کی یہ ہے کہ دس روپیہ تو آپ نے دیکھے ہیں اور جنت دیکھی نہیں اگر جنت کی ادنی سے ادنی چیز بھی نظر آ جائے بیہوش ہو کر گر جاؤ مر جاؤ کیا جنت سے استغناء ظاہر کرتے پھرتے ہو شاہ صاحب چپکے چپکے سنتے رہے کچھ بولے نہیں یہ حالت ہے جہل کی ـ
