دل سے سارے خطرات کو نکالنے کی کوشش کی ایک عجیب مثال ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر سارے جہاں کے خطرات ہمارے قلب میں رہیں مگر ان کے اقتضاء پر عمل نہ ہو نیز وہ ہمارے لائے ہوئے نہ ہوں تو کوئی حرج نہیں ـ اور یہ غیر محقق صوفی تو نظام حیدر آباد بننا چاہتے ہیں جیسے جس وقت نظام حیدر آباد کی سواری چلتی ہے تو وہ تمام سڑک روک دی جاتی ہے جس پر سے ان کا موٹر گذرتا ہے ـ میں مرتبہ حیدر آباد میں ہی تھا معلوم ہوا کہ فلاح سڑک سے موٹر گذرنے والا ہے وہ سڑک پہلے سے بند تھی ـ اسی طرح یہ صوفی چاہتے ہیں کہ تمام سڑکیں صاف ہو جائیں جب ہم چلیں ،
باقی ہم غریب لوگ تو غریب آدمی بھنگی چماروں سب میں ملے جلے جا رہے ہیں مگر گاڑی کے وقت انشاء اللہ اسٹیشن پر سب ایک ہی جگہ ہوں گے غریب آدمیوں کے ساتھ گذرنے کے مناسب یاد آ گیا کہ میں ریل کے تیسرے درجہ میں سوار ہونے کو ترجیح دیتا ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تیسرے درجہ میں بے تکلف سفر ہوتا ہے نہ اس درجہ میں خصوصیت کے ساتھ کوئی ایسا شخص ہوتا ہے کہ جس کی وجہ سے تکلیف کیا جائے بلکہ ہر قسم کے ہر مذاق کے لوگ ہوتے ہیں کوئی کوٹ پتلون والے بھی دھوتی بند بھی پاجامہ والے بھی کوئی ہنس رہا ہے کوئی رو رہا ہے کوئی گا رہا ہے کوئی بجا رہا ہے ایک عجیب و غریب منظر ہوتا ہے بخلاف فرسٹ کلاس سکینڈ کلاس انٹر کلاس کے کہ سب منہ چڑھائے بیٹھے رہتے ہیں ایک سے ایک کلام نہیں کر سکتا ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت تیسرے درجہ میں بعض گنوار ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ننگے ہوتے ہیں گھٹنے اور زانو کھلے ہوتے ہیں فرمایا پھر کیا ہوا اگر بلا قصد نظر پڑ بھی جائے تو ہم کو کوئی گناہ تھوڑا ہی ہوتا ہے خود اس ننگے کو ننگ آنا چاہیئے ـ ایک مرتبہ میرے بھائی اکبر علی مرحوم نے مجھ سے کہا کہ اب تمہاری ہستی ایسی نہیں کہ تم ریل کے تیسرے درجہ میں سفر کرو میں نے کہا کہ فلاح وزیر اعظم انگریز سے کسی نے سوال کیا تھا کہ آپ تیسرے درجہ میں کیوں سفر کیا کرتے ہیں کیا عجیب جواب دیا بڑے دماغ کا آدمی تھا دنیا کے کاموں میں ایک خاص ملکہ رکھتا تھا کہتا ہے کہ چونکہ چوتھا درجہ نہیں ہے اسلئے تیسرے درجہ میں سفر کرتا ہوں اسکے بعد تجربات کی بناء پر بھائی صاحب کی رائے بھی بدل گئی تھی اور وہ خود بھی تیسرے درجہ میں سفر کرنے لگے تھے ایک بات یہ ہے کہ تیسرے درجہ میں وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہماری رعایت کرتے ہیں اور سکینڈ فرسٹ میں وہ ہوتے ہیں جن کی ہمیں رعایت کرنی پڑتی ہے بڑی ہی کلفت ہوتی ہے جیسے کوئی قید کر دیتا ہے تو ان صوفیوں کے اور ہمارے سفر میں بس فرق یہ ہے کہ ہمارا سفر بے تکلف اور با نمک بامزہ اور ان کا سفر با تکلف اور بے نمک بے مزہ ـ
