ایک شخص کی ادھوری بات پر مؤاخذہ ایک دیہاتی شخص نے آ کر تعویذ مانگا اور یہ نہیں بتلایا کہ کس چیز کا تعویذ حضرت والا نے فرمایا کہ میں سمجھا نہیں اس نے ذرا بلند آواز سے فرمایا کہ تعویذ کو آیا ہوں فرمایا کہ میں بہرا نہیں ہوں سن لیا مگر سمجھا نہیں ذرا باریک بات کو کم سمجھتا ہوں ( یہ مزاح سے مرمایا ) اس پر بھی اس نے یہ نہیں بتلایا کہ کس چیز کا تعویذ چاہیے فرمایا کہ جاؤ باہر سہ دری سے اور کسی معلوم کر کے آؤ کہ یہ میری بات پوری ہے یا ادھوری وہ شخص گیا اور دریافت کر کے آیا اور کہا کہ ستاؤ ( یعنی آسیب ) کا تعویذ دیدو فرمایا کہ اب بتلاؤ کہ میں بدوں بتلائے ہوئے کس چیز کا تعویذ لکھتا ـ تھی بھی ادھوری بات ـ اب تو کبھی ادھوری بات کہیں کسی کے پاس جا کر نہیں کہو گے کہا کہ نہیں ـ پھر حضرت والا نے مزاحا فرمایا کہ ایک کو تو جن ستا رہا ہے اس کے لیے تعویذ کی ضرورت ہے اور تو مجھے ستا رہا ہے ایک تعویذ میں اپنے لیے کروں تیرے ستاؤ سے بچنے کے لیے فرمایا کہ اس وقت جاؤ اور ایک گھنٹہ کے بعد آ کر پوری پوری بات کہنا کیونکہ پریشانی میں تعویذ لکھنے کو دل نہیں چاہتا اور مؤثر بھی نہیں ہوتا اس کے بعد فرمایا کہ یاد آ گیا آج جمعہ ہے تعویذ نہیں ملے گا ـ کل ظہر کے بعد آنا اور آ کر پوری بات کہہ دینا ـ آج کے واقعہ کے بھروسہ نہ رہنا مجھ کو آج کی بات یاد نہ ہے گی ـ وہ شخص چلا گیا ـ فرمایا کہ اس وقت ذرا سی گڑ بڑ تو ہوئی مگر اس شخص کو سبق مل گیا ـ اب کبھی ادھوری بات نہ کہے گا یہاں پر تو جو آتا ہے بحمداللہ خالی نہیں جاتا کچھ لے کر جاتا ہے تعویذ بلا تعلیم مل گئی یہ سب کچھ خرابیاں رسمی اخلاق کی بدولت ہو رہی ہیں مجھ میں یہ رسمی اخلاق ہیں نہیں اسی لیے میں بد نام ہوں خیر بد نام ہی کر لیں اصول کو کیسے چھوڑ دیا جائے ـ آج کل لوگ اہل اصول سے خوش ہیں اور اہل اصول سے خفا ـ اچھا ہے ایسے بد فہم اور کوڑ مغزوں کا خفا ہونا ہی اچھا ہے نجات تو مل جاتی ہے ورنہ سوائے ستانے کے ایسے شخصوں سے اور کیا امید ہو سکتی ہے ـ
