بے روزگاری کے لیے وظیفہ ایک شخص نے عرض کیا کہ حضرت میں بے روزگار ہوں ایک تعویذ دیدیجئے فرمایا کہ ابھی ایک واقعہ تمہارے سامنے ہو چکا ہے جس سے تم کو معلوم ہو گیا کہ جمعہ کے روز تعویذ نہیں دیا جاتا پھر بھی تم کو سبق نہ ملا خیر روزگار کے لیے تعویذ نہیں ہوتا میں پڑھنے کے لیے بتاتا ہوں وہ پڑھ لیا کرو یا باسط دو اوپر ستر مرتبہ پانچوں نمازوں کے بعد پڑھ لیا کرو انشاء اللہ تعالی بہتر ہوگا ـ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ آجکل لوگ وظالئف کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور اصل چیز یعنی دعا کو اختیار نہیں کرتے جو روح اور مغز ہے تمام عبادات کی اور ایک کام کی بات بیان کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ وظائف پڑھنے سے قلب میں ایک دعوے کی شان پیدا ہوتی ہے کہ ہم ایک تدبیر کر رہے ہیں بس ثمرہ گویا ہمارے قابو میں ہے اور دعاء سے شان عبدیت کا غلبہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی سے مانگ رہے ہیں وہ چاہیں گے تو دیں گے بس دعا بڑی چیز ہے ؎ بس ہے اپنا ایک بھی نالہ اگر پہنچے وہاں ٭ گرچہ کرتے ہیں بہت سے نالہ و فریاد ہم
