( ملفوظ 372 )آج کل کی ترقی ، اعلی درجہ کی پستی ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہوں آج کل ترقی کرنے کا مرض ایسا عام ہوا ہے کہ شاید ہی کوئی بچا ہو حالانکہ جس کو یہ لوگ ترقی سمجھتے ہیں وہ اعلی درجہ کی پستی اور تنزلی ہے ۔ میں نے لکھنؤ میں ایک واعظ میں جس کا نام الحدود القیود ہے اور بڑے بڑے بیرسٹر اور نو تعلیم یافتہ لوگ اس وعظ میں شریک تھے یہ کہا تھا کہ کیوں صاحب اگر ترقی مطلقا مطلوب ہے تو پھر جسم پر جو ورم آ جاتا ہے اس کا علاج کیوں کرتے ہو ، بس جیسے طب میں ترقی کی ایک حد ہے وہی ہمارے یہاں شریعت میں بھی اس کی ایک حد ہے حد سے گزر کر کسی چیز کا ہونا وہ مرض کہلاتا ہے صحت نہیں ۔ اس پر سب کی آنکھیں کھلی رہ گئیں ۔ بعد وعظ کے اکثر نے کہا کہ آج حقیقت معلوم ہوئی بڑی زبردست غلطی میں ابتلاء تھا ۔
18 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم یک شنبہ