ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ وساوس غیر اختیاریہ چاہے کفر ہی کیوں نہ ہوں اگر یہ شخص صراط مستقیم سے نہ ہٹے تو وہ گمراہ نہیں بلکہ میں تو توسیع کر کے کہتا ہوں کہ یہ عین قوت ایمانیہ کی دلیل ہے کہ باوجود مزاحم کے پھر اس راہ پر لگا ہوا ہے ایسی حالت میں گھبرانا نہیں چاہیے اور قوت و ہمت کے ساتھ راہ طے کرتا ہوا چلا جائے بڑا اجر ہے اور میں تو کہتا ہوں کہ مسلمان کی کوئی حالت غیر اختیاریہ ایسی نہیں کہ وہ محمود نہ ہو اور اس پر اس کو اجر اور ثواب نہ ہو ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
در طریقت ہر چہ پیش سالک آید خیرا دست بر صراط مستقیم ایدل کسے گمراہ نیست
کام میں لگے رہنے کی ضرورت ہے لگے رہو جو کچھ بن پڑے کئے جاؤ ۔ ایک صاحب کا مقولہ مجھ کو تو بہت ہی پسند آیا کہ وہ تو ایسا دربار ہے کہ کئے جاؤ اور لئے جاؤ واقعی کمی کیا ہے ، کوئی لینے والا چاہیے مگر محض قیل و قال سے کام نہیں چلتا ہے ۔ پھر دیکھو کیا کچھ عطا ہوتا ہے کام کرنے اور نہ کرنے پر ۔ ایک مثال یاد آئی ایک شخص کہتا ہے کہ میں بھوکا ہوں مگر جو روٹی مجھ کو دی جائے اس کا قطر چار انگشت کا ہو ۔ اس سے معلوم ہو گا کہ اس کو بھوک نہیں ورنہ قیل و قال نہ کرتا ، ارے بھائی روٹی ہونا چاہیے وہ ایک بالشت کی ہو یا چار انگشت کی ہو اسی طرح جنت میں تو پہنچ جاؤ چاہے وہ درجہ داہنے یا بائیں نیچے ہو یا اوپر ۔
