( ملفوظ 66 ) عین عتاب کے وقت دوسروں کو اپنے سے افضل سمجھنا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو کسی سے عین باز پرس کے وقت بھی الحمد للہ اس کا استحضار رکھتا ہوں کہ یہ شخص مجھ سے لاکھوں درجہ افضل ہے اور یہ استحضار کوئی کمال کی بات نہیں اس لیے کہ موٹی بات ہے کہ کسی کو معلوم نہیں کہ عنداللہ اس کا کیا درجہ ہے مگر اصلاح کی ضرورت باز پرس پر مجبور کرتی ہے اور بعض اوقات جس بات پر مواخذہ کرتا ہوں وہ بات فی نفسہ اس درجہ کی نہیں ہوتی جس درجہ کا اس پر احتساب ہوتا ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ میں اس کی منشاء کو دیکھتا ہوں اور بعض جرم منشاء کے اعتبار سے سخت ہوتا ہے اسی لیے ہر جرم میں یہ خیال کرنا چاہیے کہ گو یہ صورت صغیرہ ہے مگر ممکن ہے کہ منشاء کے اعتبار سے یہ کبائر سے بھی بڑھ کر ہو اور اس لیے کہیں اس پر مواخذہ بڑا نہ ہو ۔ گویہ اس کو ہلکا سمجھے ہوئے ہے ۔ اسی سلسلہ میں یہ بھی فرمایا کہ میں سچ عرض کرتا ہوں کہ کئی مرتبہ خیال ہوا کہ اس اصلاح کے کام کو چھوڑ دوں اور یہ چھوڑ دینا آسان ہے لیکن جب تک اس کو چھوڑا نہ جائے اس وقت تک اصلاح کا جو طریق ہے اس کے خلاف کرنے کو جی نہیں چاہتا اور مفید بھی نہیں ہوتا ۔ یہ تجربہ ہے کہ اگر نرمی سے بٹھلا کر سمجھا دیا جائے اس کا قبح ہونا اس کا معلوم نہیں ہوتا لیکن سیاست ہی کا طریق اختیار کرنا پڑتا ہے ۔