ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر کسی شخص سے میرا کوئی کام متعلق ہو اور اتفاق سے وہ میرے پاس آ جائے تو میں اپنے کام کی اس سے اس وقت فرمائش نہیں کرتا اس سے اس کو آئندہ کے لیے یہ وہم نہ ہو کہ جب وہاں جاؤں گا ممکن ہے کہ کوئی کام کہہ دے اور آتے ہوئے بعض اوقات بار ہو بلکہ خود اس شخص کے پاس جا کر جو کام ہوتا ہے کہہ دیتا ہوں یہ حسن معاشرت ہے ایک عالم غیر مقلد یہاں پر قیام کیے ہوئے تھے اور میرے پاس بیٹھے تھے مجھ کو ایک کتاب کی ضرورت تھی میں خود جا کر کتب خانہ سے لے آیا تو ان پر بڑا اثر ہوا ، اپنے دوستوں سے کہا کہ ہم لوگوں کا تو محض دعوی ہی ہے کہ اتباع سنت کا باقی سنت تو فلاں شخص میں ہے اور کتاب لانے کا قصہ بیان کیا ، میں نے کہا کہ یہ بھی کوئی بڑے کمال کی بات تھی مجھ کو تو اس کا وسوسہ بھی نہیں کہ میں نے کوئی کام کیا یہ تو حسن معاشرت ہے ۔
