ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل تو محبت و عقیدت کا دعوی ہے ، محبت اور عقیدت تو اس کو کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے ساتھ حضرت مولانا گنگوہی صاحب کو کھانا کھلا رہے تھے ، مولانا شیخ محمد صاحب تشریف لے آئے ، دیکھ کر فرمایا کہ آہا آج تو مرید کے حال پر بڑی نوازش ہو رہی ہے کھانا ساتھ کھایا جا رہا ہے ۔ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ واقعی ہے تو نوازش ورنہ مجھ کو تو یہ حق تھا کہ ایک روٹی اور اس پر دال ان کے ہاتھ پر رکھ کر کہتا کہ وہاں الگ بیٹھ کر کھاؤ ۔ حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ حضرت یہ فرما کر کن انکھیوں سے میرے چہرہ کو دیکھ رہے تھے ، کسی نے حضرت مولانا گنگوہی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ کی کیا حالت تھی ؟ فرمایا کہ خدا کی قسم اس وقت قلب پر اس کا استحضار تھا کہ میں تو اس سے بھی زیادہ ذلیل و حقیر ہوں جو حضرت میری نسبت فرما رہے ہیں ۔ اھ میں تو کہا کرتا ہوں کہ مربہ بننا آسان نہیں جب تک تکلوں سے چاقو سے اس کو کوچا نہ جائے ، مٹھائی اندر تک اثر کر نہیں سکتی ۔ نیز جوش بھی دیا جائے چونے کے پانی میں اور وہ چوں نہ کرے ۔ کسی نے خوب کہا ہے :
صوفی نشود صافی تادر نکشد جامے بسیار سفر باید تا پختہ شود خامے
